اسلام آباد: دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے اپنے اپنے مراحل مکمل کرلیے ہیں، جبکہ ترکی میں متعلقہ داخلی قانونی اور پارلیمانی کارروائی جاری ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ تین ملکی معاہدے کے نفاذ کی جانب پیش رفت ایسے وقت ہو رہی ہے جب سعودی عرب کے خلاف یمن کی انصار اللہ تحریک کے حملوں کے باعث علاقائی کشیدگی برقرار ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7 اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ دستیاب متن کے مطابق یہ معاہدہ کسی بھی فریق کے خلاف بیرونی مسلح جارحیت کی صورت میں اجتماعی معاونت کا فریم ورک فراہم کرتا ہے، جبکہ مدد کی نوعیت اور حد حالات کے مطابق مشترکہ طور پر طے کی جانی ہے۔ 5 اکتوبر کو ریاض میں اتحاد کی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی نے اجتماعی دفاعی وعدوں کے عملی نفاذ اور پہلے سے طے شدہ فوجی صلاحیتوں کی تیز تعیناتی کے لیے اقدامات پر زور دیا تھا۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنی توثیقی کارروائیاں مکمل کرچکے ہیں، جبکہ ترکی نے 20 اکتوبر کو معاہدہ اپنی پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا۔ تینوں ممالک کے آئینی اور قانونی طریقہ کار مختلف ہیں۔ پاکستان میں بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط اور توثیق عمومی طور پر وفاقی انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں آتی ہے، جب تک کسی معاہدے کے نفاذ کے لیے داخلی قانون میں تبدیلی ضروری نہ ہو۔
معاہدے کا متن پاکستانی حکومت نے ابتدا میں عوامی طور پر جاری نہیں کیا تھا، تاہم ترکی کی پارلیمنٹ میں پیش ہونے کے بعد اس کی تفصیلات میڈیا تک پہنچیں۔ دفتر خارجہ نے میڈیا میں سامنے آنے والے متن کی صداقت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی خفیہ شق نہیں اور دستاویز اپنی دفعات میں واضح ہے۔
یمن کے تنازع کے تناظر میں دفتر خارجہ نے پاکستان کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ یمن کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے اور دیرپا حل مذاکرات اور سیاسی تصفیے سے ہی ممکن ہے۔ ساتھ ہی اسلام آباد نے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت اور مملکت کی سلامتی کے لیے حمایت کا اظہار کیا ہے۔
توثیق مکمل ہونا معاہدے کے قانونی اور سیاسی نفاذ میں اہم قدم ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر صورتحال میں خودکار طور پر فوجی کارروائی شروع ہوجائے گی۔ دستیاب متن کے مطابق معاونت کی نوعیت اور پیمانہ حالات، مشترکہ فیصلوں اور ہر ملک کے قومی قوانین کے مطابق طے کیا جانا ہے۔

