خیبر: طورخم سرحد پر کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب افغان سرحدی فورسز نے متنازع زنگلی سکیورٹی چیک پوسٹ پر تعمیراتی کام دوبارہ شروع کیا، جس کے جواب میں پاکستانی سرحدی اہلکاروں نے انتباہی فائرنگ کی۔ پاکستانی حکام کے مطابق فائرنگ کا مقصد تعمیر رکوانے کے لیے تنبیہ کرنا تھا اور واقعے میں دونوں جانب فورسز کے درمیان براہ راست مسلح جھڑپ نہیں ہوئی۔

طورخم کے حکام کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے یہ دوسری مرتبہ ہے جب افغان حکام نے سرحد کے 100 میٹر کے دائرے میں نئی چوکی یا عمارت تعمیر نہ کرنے اور پرانی تعمیرات کی مرمت سے متعلق باہمی سمجھ بوجھ کی خلاف ورزی کی۔ پاکستانی حکام نے 19 اکتوبر کو بھی اسی مقام پر تعمیراتی سرگرمی پر اعتراض کیا تھا، جس کے بعد افغان جانب نے کام روک دیا تھا اور ممکنہ تصادم ٹل گیا تھا۔

اس سے پہلے کشیدگی کے باعث غیر دستاویزی افغان شہریوں کی واپسی کا عمل عارضی طور پر معطل ہوا اور امیگریشن و کسٹمز دفاتر چند گھنٹوں کے لیے بند رہے تھے۔ تعمیراتی کام رکنے کے بعد سرحدی سرگرمیاں بحال کردی گئی تھیں۔ تازہ واقعے میں بھی مقامی آبادی میں خوف پھیلا اور انتباہی فائرنگ کے دوران لوگوں نے گھروں کے اندر رہنے کو ترجیح دی۔

پاکستانی حکام کے مطابق افغان فورسز کو پہلے زبانی پیغامات کے ذریعے تعمیراتی سرگرمی روکنے کے لیے کہا گیا، لیکن مثبت جواب نہ ملنے پر انتباہی گولیاں چلائی گئیں۔ یہ تفصیلات پاکستانی سرحدی حکام کے مؤقف پر مبنی ہیں؛ دستیاب رپورٹ میں افغان حکام کا تفصیلی جواب شامل نہیں، اس لیے تعمیر کی قانونی حیثیت اور باہمی معاہدے کی تشریح پر دونوں جانب کے مؤقف میں فرق ممکن ہے۔

طورخم پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم تجارتی اور مسافر گزرگاہ ہے۔ سرحدی تنصیبات، زیرو پوائنٹ اور نئی تعمیرات کے معاملات ماضی میں بھی کشیدگی اور عارضی بندش کا سبب بنتے رہے ہیں، جس سے تجارت، ٹرانزٹ، مسافروں اور افغان شہریوں کی واپسی کے عمل پر فوری اثر پڑتا ہے۔

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ اسلام آباد سرحدی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دیتا ہے، لیکن سرحدی سلامتی سے متعلق اپنے مؤقف پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ تازہ واقعے میں جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی، تاہم تعمیراتی سرگرمی کے مستقبل اور دونوں ممالک کے مقامی سرحدی حکام کے درمیان رابطے پر صورت حال کے استحکام کا انحصار ہوگا۔