لاہور: پاکستان ریلوے نے مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے مسلسل حادثات کے تناظر میں محکمہ بھر میں تین ماہ کی حفاظتی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ ریلوے ہیڈکوارٹرز کے بیان کے مطابق یہ اقدامات وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی ہدایت پر کیے گئے ہیں اور ان کا مقصد ٹرین آپریشن کی نگرانی سخت کرنا اور مسافروں کے لیے محفوظ سفر یقینی بنانا ہے۔

محکمانہ ہدایات کے تحت فیلڈ افسران کی چھٹیاں تین ماہ کے لیے منسوخ کر دی گئی ہیں۔ افسران کو اتوار کے روز بھی فیلڈ میں جا کر ٹرین آپریشن کی نگرانی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ دوسرے شہروں میں سرکاری فرائض کے لیے جانے والے ریلوے افسران کو سفر ٹرین کے ذریعے کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ وہ عملی طور پر آپریشن اور مسافروں کو درپیش مسائل کا جائزہ لے سکیں۔

ریلوے کے سول اور مکینیکل شعبوں کے چیف انجینئرز کو اپنی ذمہ داری کے علاقوں سے متعلق روزانہ رپورٹ وزارت کو بھیجنے کا پابند کیا گیا ہے۔ اسی طرح سیفٹی کے سربراہ سے بھی یومیہ رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ بیان کے مطابق ہنگامی انتظامات 31 دسمبر تک نافذ رہیں گے۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ حکومت وزیراعظم کے وژن کے مطابق مسافروں کو ممکنہ حد تک محفوظ سفری سہولت فراہم کرنا چاہتی ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں سال یکم جنوری سے اب تک مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے 55 سے زیادہ حادثات رپورٹ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان واقعات نے ٹریک، رولنگ اسٹاک، دیکھ بھال کے معیار اور حفاظتی ہدایات پر عمل درآمد کے بارے میں سوالات پیدا کیے ہیں۔ مختلف حادثات میں جانی نقصان اور زخمی ہونے کے واقعات کے ساتھ ریلوے انفراسٹرکچر کو مالی نقصان بھی پہنچا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں خانپور کے قریب مال گاڑی کی بوگیاں پٹڑی سے اترنے، کالا گجراں کے قریب راول ایکسپریس کے انجن اور ڈبوں کے ڈی ریل ہونے اور کوٹری یارڈ سمیت مختلف مقامات پر کوئلہ بردار ٹرینوں کے حادثات سامنے آئے۔ ریلوے ذرائع نے سکھر، کراچی اور ملتان ڈویژنز کو ان علاقوں میں شمار کیا جہاں حادثات کی تعداد نمایاں رہی ہے۔

تین ماہ کی ایمرجنسی بنیادی طور پر انتظامی اور نگرانی کا اقدام ہے۔ اس کے نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ روزانہ کی فیلڈ رپورٹنگ، انجینئرنگ معائنوں اور حفاظتی ہدایات سے عملی خامیوں کی کتنی جلد نشاندہی اور اصلاح کی جاتی ہے۔