پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اسکول کی سطح پر کھیل کا دائرہ بڑھانے کے لیے 62 اضلاع کے 881 اسکولوں کو اپنے ملک گیر اسکول ہاکی پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دی ہے۔ فیڈریشن کے جاری کردہ اعداد کے مطابق ان میں 802 سرکاری اور 79 نجی اسکول شامل ہیں، یعنی منظور شدہ اداروں کا تقریباً 91 فیصد سرکاری شعبے سے تعلق رکھتا ہے۔ رجسٹریشن کی آخری تاریخ بڑھا کر 23 اگست کردی گئی ہے تاکہ مزید اہل ادارے اپنی معلومات مکمل کرسکیں۔
صوبائی تقسیم میں پنجاب 620 اسکولوں کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ سندھ سے 143، خیبر پختونخوا سے 106، بلوچستان سے 6، اسلام آباد سے 5 اور آزاد جموں و کشمیر سے ایک اسکول شامل کیا گیا ہے۔ یہ تقسیم ظاہر کرتی ہے کہ ابتدائی مرحلے میں پروگرام کا بڑا حصہ پنجاب اور سندھ میں مرتکز ہے، جبکہ بلوچستان، وفاقی دارالحکومت اور آزاد کشمیر میں نمائندگی محدود ہے۔ فیڈریشن نے کہا ہے کہ اگلے مرحلوں میں کم نمائندگی والے علاقوں تک رسائی بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔
ضلعی سطح پر کراچی کے 118 اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے 115 اسکول شامل ہیں۔ راولپنڈی کے 94، رحیم یار خان کے 68، بہاولپور کے 62، جھنگ کے 53، ساہیوال کے 36، مانسہرہ کے 34، چنیوٹ کے 33 اور فیصل آباد کے 32 اسکول فہرست کا حصہ ہیں۔ صرف پہلے تین اضلاع کے 327 اسکول مجموعی تعداد کا 37.1 فیصد بنتے ہیں، جبکہ پہلے پانچ اضلاع کا مجموعہ 457 ہے۔ اس ارتکاز کو دیکھتے ہوئے پروگرام کی کامیابی کا ایک اہم پیمانہ یہ ہوگا کہ سہولتیں چھوٹے اور دور دراز اضلاع تک کس رفتار سے پہنچتی ہیں۔
فیڈریشن کے مطابق منظور شدہ اسکولوں کو ہاکی کٹس اور متعلقہ سامان دو سے تین ہفتوں میں فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ سامان کی فراہمی کے بعد اسکولوں میں باقاعدہ تربیتی سرگرمیاں، کھلاڑیوں کی بنیادی مہارتوں کی جانچ اور مقامی مقابلوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ اسکولوں سے ماہانہ سرگرمی رپورٹ لینے کا بھی منصوبہ ہے تاکہ صرف رجسٹریشن کے بجائے عملی شرکت، کوچنگ اور سامان کے استعمال کا ریکارڈ سامنے آسکے۔
پروگرام کا بنیادی مقصد گراس روٹس سطح پر زیادہ بچوں کو ہاکی سے متعارف کرانا اور باصلاحیت کھلاڑیوں کے لیے ضلعی، صوبائی اور پھر قومی سطح تک پہنچنے کا واضح راستہ بنانا بتایا گیا ہے۔ تاہم اسکول کی منظوری بذات خود مستقل کوچ، میدان یا مقابلوں کی ضمانت نہیں۔ اصل نتیجہ سامان کی بروقت ترسیل، تربیت یافتہ کوچز، طالبات اور طلبہ دونوں کی رسائی، باقاعدہ مقابلوں اور فیڈریشن کی مسلسل نگرانی سے سامنے آئے گا۔
اردو ہیڈ لائنز ڈیسک نے فیڈریشن کی فراہم کردہ تعداد، صوبائی و ضلعی تقسیم اور طے شدہ اگلے اقدامات کو رپورٹ کیا ہے۔ رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد مجموعی فہرست یا ضلعی تعداد میں تبدیلی ہوسکتی ہے، اس لیے حتمی اعداد کے لیے فیڈریشن کی تازہ اطلاع اہم ہوگی۔




