پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی خواتین انڈر 19 ٹورنامنٹ 2026–27 کے شیڈول اور ٹیموں کا اعلان کردیا ہے۔ مقابلے 20 اگست سے 4 ستمبر تک کراچی کے نیشنل بینک اسپورٹس کمپلیکس اور ہائی پرفارمنس سینٹر اوول گراؤنڈ میں ہوں گے۔ ملک بھر سے منتخب 75 نوجوان کھلاڑی پانچ ٹیموں میں حصہ لیں گی۔

ٹیموں کے نام کنکررز، چیلنجرز، اسٹرائیکرز، اسٹارز اور انونسیبلز ہیں۔ سامیہ افسر، فضا فیاض، روائل فرحان، کومل خان اور زوفشاں ایاز اپنی اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گی۔ ٹیمیں 16 اگست کو کراچی پہنچیں اور مقابلوں سے پہلے 17، 18 اور 19 اگست کو تربیتی سیشن رکھے گئے۔

ٹورنامنٹ کو دو الگ فارمیٹس میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ کھلاڑیوں کو مختلف طرز کی مسابقتی کرکٹ کا تجربہ ملے۔ پہلا مرحلہ 30 اوور کے میچوں پر مشتمل ہوگا اور 20 سے 26 اگست تک چلے گا۔ ہر ٹیم اس مرحلے میں چار میچ کھیلے گی۔ دوسرے مرحلے میں 27 اگست سے 2 ستمبر تک ٹی 20 مقابلے ہوں گے۔

ڈبل لیگ راؤنڈ رابن نظام کے تحت ہر ٹیم مجموعی طور پر آٹھ میچ کھیلے گی۔ لیگ مرحلے کے بعد سرفہرست دو ٹیمیں 4 ستمبر کو ٹی 20 فائنل کھیلیں گی۔ فائنل کے مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، جبکہ جاری شیڈول کے مطابق تمام میچ صبح 9 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوں گے۔

افتتاحی دن انونسیبلز کا مقابلہ اسٹارز سے نیشنل بینک اسپورٹس کمپلیکس میں اور چیلنجرز کا کنکررز سے ہائی پرفارمنس سینٹر اوول گراؤنڈ میں ہوگا۔ اگلے دن اسٹرائیکرز اور کنکررز، جبکہ چیلنجرز اور اسٹارز آمنے سامنے ہوں گی۔ باقی میچ مقررہ وقفوں سے دونوں میدانوں پر رکھے گئے ہیں۔

کھلاڑیوں میں ملک گیر ٹرائلز کے ذریعے منتخب ہونے والی نوجوان کرکٹرز کے ساتھ وہ کھلاڑی بھی شامل ہیں جو جنوبی افریقہ کے خلاف پانچ ٹی 20 میچوں کی حالیہ انڈر 19 سیریز میں پاکستان کی نمائندگی کرچکی ہیں۔ پی سی بی کے مطابق یہ ٹورنامنٹ پیشہ ور خواتین کرکٹ کی اگلی کھیپ تیار کرنے اور آئندہ اے سی سی خواتین انڈر 19 ایشیا کپ و آئی سی سی خواتین انڈر 19 ورلڈ کپ کے لیے ممکنہ کھلاڑیوں کا پول حتمی بنانے میں مدد دے گا۔

ٹورنامنٹ کا اعلان ترقیاتی مقصد بیان کرتا ہے، لیکن کسی ٹیم کی پیشگی برتری یا کھلاڑی کے حتمی قومی انتخاب کی ضمانت نہیں۔ کارکردگی، فٹنس اور بعد کے سلیکشن فیصلے الگ مراحل ہوں گے۔ اردو ہیڈ لائنز ڈیسک نے جاری شیڈول، فارمیٹ اور کھلاڑیوں کی تعداد کو رپورٹ کیا ہے؛ موسم یا انتظامی ضرورت کے تحت ہونے والی کسی تبدیلی کے لیے تازہ پی سی بی اطلاع دیکھی جانی چاہیے۔