اسلام آباد: وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان چین، جنوبی کوریا، ترکیہ، جاپان اور ویتنام سمیت اہم تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ترجیحی مارکیٹ رسائی بہتر بنانے کے لیے رابطے کر رہا ہے اور بیجنگ سے ایسی مزید ٹیرف رعایتوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو چین بعض دوسرے ممالک کو فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بات برآمد کنندگان کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس میں کہی، جس میں برآمدی لاگت اور ضابطہ جاتی رکاوٹوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیر تجارت کے مطابق جنوبی کوریا کے ساتھ ترجیحی تجارتی انتظامات پر بات چیت آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی مشنز اور دوطرفہ مشاورت کے ذریعے رابطہ جاری ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ پاکستانی مصنوعات کے لیے بیرونی منڈیوں تک رسائی بہتر ہو اور برآمد کنندگان کو مسابقتی ٹیرف شرائط مل سکیں۔ اس مرحلے پر کسی نئے تجارتی معاہدے یا مخصوص چینی رعایت کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اجلاس میں صنعتی توانائی لاگت، خصوصاً گیس لیوی، پر بھی بحث ہوئی۔ شرکا کو بتایا گیا کہ وزارت خزانہ نے حکومت اور صنعت کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو لیوی پالیسی اور اس کے حساب کے طریقہ کار کا جائزہ لے گی۔ برآمد کنندگان طویل عرصے سے توانائی کی قیمتوں کو عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت سے جوڑتے رہے ہیں۔
کاروباری نمائندوں نے پنجاب انفراسٹرکچر سیس، سرٹیفکیشن فیس اور محکمہ تحفظ نباتات میں دستاویزات کی بار بار ترمیم پر وصول ہونے والی فیس کے معاملات بھی اٹھائے۔ انہوں نے برآمدی آمدن کے تناسب سے سپر ٹیکس میں ریلیف کی تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کے طریقہ کار اور اہلیت کے معیار، کاروباری ویزا پابندیوں اور انشورنس اخراجات پر بھی گفتگو ہوئی۔
پاکستان کو برآمدات بڑھانے کے لیے ایک طرف نئی منڈیوں اور ترجیحی تجارتی شرائط کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف مقامی پیداواری لاگت اور انتظامی رکاوٹیں بھی اہم ہیں۔ وزارت تجارت کی تازہ مشاورت دونوں پہلوؤں کو ایک ساتھ دیکھنے کی کوشش ہے۔ چین پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے، اس لیے ٹیرف رعایتوں میں کسی ممکنہ توسیع کا اثر پاکستانی برآمدی شعبوں کی مارکیٹ رسائی پر پڑ سکتا ہے، تاہم عملی فائدہ کسی حتمی مذاکراتی نتیجے اور متعلقہ مصنوعات پر لاگو شرائط سے مشروط ہوگا۔

