اسلام آباد: خصوصی اقتصادی زونز کے بورڈ آف اپروولز نے کراچی انڈسٹریل پارک کو وفاقی خصوصی اقتصادی زون کا درجہ دینے کی منظوری دے دی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت بورڈ کے گیارہویں اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس درجہ بندی کا مقصد برآمدی صنعتوں میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ویلیو ایڈیشن اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے ایک مخصوص صنعتی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔
خصوصی اقتصادی زون کا درجہ کسی صنعتی علاقے کو متعلقہ قانون اور قواعد کے تحت مخصوص سہولتوں، منظوریوں اور سرمایہ کاری کے انتظامی نظام میں لاتا ہے۔ کراچی انڈسٹریل پارک کے لیے وفاقی SEZ کی منظوری کے بعد عملی فوائد کا انحصار منصوبے کے نفاذ، بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاروں کی آمد اور متعلقہ قانونی و مالی مراعات کی دستیابی پر ہوگا۔ اجلاس میں فوری طور پر کسی مخصوص سرمایہ کاری حجم یا روزگار کی قطعی تعداد کا اعلان نہیں کیا گیا۔
بورڈ نے نجی طور پر قائم خصوصی اقتصادی زونز کے مقررہ زیرو پوائنٹ تک یوٹیلیٹیز اور متعلقہ سہولیات حکومتی فنڈنگ سے فراہم کرنے کے عمومی اہلیتی معیار کی بھی منظوری دی۔ اس فریم ورک کے تحت سڑکوں تک رسائی، بجلی، گیس، پانی اور دیگر ضروری سہولتوں کے معاملات کو کیس بہ کیس بنیاد پر جانچا جا سکے گا۔ اس اقدام کا مقصد نجی زونز کے ابتدائی بنیادی ڈھانچے سے متعلق رکاوٹیں کم کرنا ہے۔
اجلاس میں پنجاب کے سرکاری شعبے کے خصوصی اقتصادی زونز اور صنعتی اسٹیٹس کے لیے لینڈ لیز پالیسی بھی منظور کی گئی۔ پالیسی کا مقصد طویل مدتی لیز کے ذریعے صنعتی سرمایہ کاری کو فروغ دینا، زمین خریدنے کی ابتدائی لاگت کم کرنا اور سرکاری صنعتی زمین کا زیادہ مؤثر استعمال یقینی بنانا ہے۔ زمین کی ملکیت خریدنے کے بجائے لیز پر دستیابی نئے منصوبوں کے لیے ابتدائی سرمائے کی ضرورت کم کر سکتی ہے۔
پاکستان خصوصی اقتصادی زونز کو برآمدات، صنعتی پیداوار اور غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری بڑھانے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ کراچی انڈسٹریل پارک کی تازہ منظوری اسی پالیسی سلسلے کا حصہ ہے۔ تاہم SEZ کا درجہ خود بخود صنعتی کامیابی کی ضمانت نہیں؛ سرمایہ کاری کے حقیقی نتائج بجلی اور دیگر سہولیات کی دستیابی، پالیسی تسلسل، کاروباری لاگت، ریگولیٹری عمل اور ملکی و عالمی منڈی کی صورتحال سے وابستہ رہیں گے۔

