کراچی: رواں مالی سال 2026-27 کے ابتدائی مہینوں میں پاکستان کی چاول برآمدات کی مالیت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے ملک کی ایک اہم زرعی برآمد کو عالمی قیمتوں اور سخت مسابقت کے دباؤ کا سامنا ہونے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ تجارتی اعدادوشمار کے مطابق باسمتی کے ساتھ نان باسمتی چاول کی برآمدی آمدن بھی گزشتہ سال کے تقابلی عرصے سے کم رہی، اگرچہ مختلف اقسام میں مقدار اور فی یونٹ قیمت کا رجحان یکساں نہیں تھا۔

چاول پاکستان کی بڑی زرعی برآمدات میں شامل ہے اور گزشتہ برسوں میں اس شعبے نے مشرق وسطیٰ، افریقہ، یورپ اور ایشیا کی متعدد منڈیوں میں نمایاں فروخت کی ہے۔ تاہم عالمی منڈی میں رسد بڑھنے، بھارت سمیت بڑے برآمد کنندگان کی قیمتوں میں تبدیلی اور درآمدی ممالک کی خریداری کے انداز میں اتار چڑھاؤ سے پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے قیمت برقرار رکھنا مشکل ہوا ہے۔

باسمتی چاول عموماً نان باسمتی اقسام کے مقابلے میں زیادہ فی یونٹ قیمت حاصل کرتا ہے، اس لیے اس کی برآمدی آمدن میں کمی مجموعی زرعی برآمدی وصولیوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔ برآمد کنندگان کے لیے پیداواری لاگت، بجلی اور گیس کے نرخ، پیکیجنگ، بندرگاہی اخراجات اور بین الاقوامی فریٹ بھی مسابقتی قیمت مقرر کرنے میں اہم عوامل ہیں۔ عالمی خریدار قیمت کے ساتھ معیار، نمی، دانے کی خصوصیات اور بروقت ترسیل کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔

پاکستانی چاول کی صنعت نے حالیہ برسوں میں نئی منڈیوں تک رسائی، معیار بہتر بنانے اور ویلیو ایڈڈ پیکیجنگ کے ذریعے برآمدات بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے باوجود عالمی قیمت میں کمی کی صورت میں برآمدی مقدار برقرار رہنے کے باوجود ڈالر میں حاصل ہونے والی مجموعی آمدن متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر مقامی منڈی میں دھان یا چاول کی قیمت نسبتاً زیادہ ہو تو برآمد کنندگان کے منافع اور عالمی مسابقت دونوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔

تازہ اعدادوشمار ایک محدود ابتدائی مدت کی تصویر پیش کرتے ہیں اور پورے مالی سال کا حتمی نتیجہ آئندہ مہینوں کی فصل، عالمی طلب، شرح مبادلہ اور بڑی درآمدی منڈیوں کی خریداری پر منحصر ہوگا۔ برآمدی صنعت کے لیے اہم چیلنج یہ ہے کہ پاکستان اپنی روایتی منڈیوں میں حصہ برقرار رکھتے ہوئے نئی مارکیٹس میں بھی رسائی بڑھائے اور باسمتی جیسی نسبتاً زیادہ قدر والی مصنوعات سے بہتر برآمدی آمدن حاصل کرے۔