اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے کمپنیز ایکٹ 2017 میں 170 مجوزہ ترامیم کی منظوری دے دی ہے اور متعلقہ بل پارلیمنٹ کو بھیج دیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کاروباری ماحول آسان بنانے، غیر ضروری قانونی رکاوٹیں کم کرنے اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ضابطہ جاتی نظام کو جدید بنانے کے وسیع پروگرام پر عمل کر رہی ہے۔

ہارون اختر کے مطابق مختلف اداروں کی جانب سے کیے گئے regulatory reviews میں اوسطاً 70 سے 75 فیصد ایسے قواعد یا تقاضوں کی نشاندہی ہوئی ہے جنہیں غیر ضروری، دہرے یا آسان بنانے کے قابل سمجھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی اصلاحاتی کام کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ مکمل ہو چکا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف ہر دو ہفتے بعد پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ فیصد تمام قوانین کے فوری خاتمے کا اعلان نہیں بلکہ جاری جائزوں میں تجویز کردہ deregulation کے پیمانے کو ظاہر کرتا ہے۔

کمپنیز ایکٹ کی 170 ترامیم کا مقصد کمپنی رجسٹریشن، روزمرہ کاروباری کارروائی اور کارپوریٹ ریگولیٹری نظام کو آسان اور جدید بنانا بتایا گیا ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد قانون میں اصل تبدیلی کے لیے پارلیمانی عمل مکمل ہونا ضروری ہے۔ حکومت نے مجوزہ اصلاحات تیار کرتے ہوئے امریکی ریاست ڈیلاویئر، برطانیہ اور کینیڈا سمیت مختلف بین الاقوامی نظاموں کا مطالعہ کیا اور عالمی regulatory reform تجربہ رکھنے والے ایک مشیر کی خدمات بھی حاصل کیں۔

حکومت 'آسان کاروبار ایکٹ' کے مجوزہ فریم ورک پر بھی کام کر رہی ہے، جس کا مقصد compliance لاگت کم کرنا، کاروباری طریقہ کار کو زیادہ پیش گوئی کے قابل بنانا اور مختلف سرکاری محکموں سے اجازتوں کے عمل کو مربوط کرنا ہے۔ ڈیری، میری ٹائم، مشروبات، آئل ریفائنریز، ادویات اور ریستورانوں سمیت متعدد شعبوں کے قواعد کا الگ جائزہ جاری ہے تاکہ ضروری عوامی تحفظ برقرار رکھتے ہوئے غیر ضروری تقاضے کم کیے جا سکیں۔

اصلاحاتی پروگرام میں ایک مربوط single-window ڈیجیٹل پورٹل بھی شامل ہے، جس کے ذریعے کاروبار درخواستیں جمع کرا سکیں گے اور متعلقہ صوبائی و وفاقی ریگولیٹرز سے رابطہ کر سکیں گے۔ حکومت صنعتی اداروں پر مختلف محکموں کی متعدد inspections کو بھی زیادہ شفاف اور مربوط بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ہارون اختر کے مطابق وفاقی اصلاحات کو صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے نظام سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہوگا تاکہ ملک بھر میں کاروباری اداروں کو نسبتاً یکساں اور آسان regulatory ماحول مل سکے۔