اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ کے اشتہارات میں لازمی صحت انتباہ نافذ کیا جائے۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ اشتہارات میں واضح طور پر یہ پیغام دیا جانا چاہیے کہ ماں کے دودھ کا کوئی متبادل نہیں، تاکہ بچوں کی غذائیت اور بریسٹ فیڈنگ سے متعلق قومی صحت کی کوششوں کو تقویت مل سکے۔
کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر امیر ولی الدین چشتی نے اجلاس کے بعد کہا کہ پیمرا کو کمیٹی کی ہدایت پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔ ریگولیٹر جرمانے، اشتہارات پر پابندی یا کسی دوسرے ضابطہ جاتی طریقے کا انتخاب کر سکتا ہے، تاہم کمیٹی کی بنیادی ہدایت یہ ہے کہ فارمولا مصنوعات کی تشہیر کے ساتھ صحت سے متعلق واضح disclaimer موجود ہو۔
پیمرا کی چیئرپرسن امبرین جان نے اجلاس میں بریسٹ فیڈنگ اور بچوں کی غذائیت سے متعلق عوامی آگاہی پیغامات پیش کیے۔ سینیٹر شہزیب درانی نے کہا کہ پہلے بھی فارمولا دودھ کی تشہیر کی حوصلہ شکنی کی ہدایت دی گئی تھی، بالخصوص ایسے حالات میں جہاں مائیں طبی طور پر بریسٹ فیڈنگ کر سکتی ہوں۔ انہوں نے تمباکو مصنوعات کے انتباہات کی طرز پر نمایاں بصری disclaimer کی تجویز دی۔
یہ بحث پاکستان میں بچوں کی غذائی قلت کے وسیع مسئلے کے پس منظر میں ہوئی۔ عرب نیوز کے مطابق یونیسف کے اعداد و شمار میں پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ بچے stunting کا شکار بتائے گئے ہیں، جبکہ پہلے چھ ماہ میں صرف 38 فیصد شیر خوار بچوں کو مکمل طور پر ماں کا دودھ پلایا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور یونیسف پیدائش کے پہلے گھنٹے میں بریسٹ فیڈنگ شروع کرنے، پہلے چھ ماہ صرف ماں کا دودھ دینے اور بعد میں مناسب اضافی غذا کے ساتھ دو سال یا اس سے زیادہ عرصہ بریسٹ فیڈنگ جاری رکھنے کی سفارش کرتے ہیں۔
کمیٹی کی ہدایت کا مطلب فوری طور پر تمام فارمولا دودھ اشتہارات پر مکمل پابندی نہیں ہے۔ اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ عملی ضابطہ جاتی قدم کا انتخاب پیمرا کرے گا۔ اس لیے اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ میڈیا ریگولیٹر اشتہارات کے لیے کس نوعیت کا انتباہ، نفاذ کا طریقہ اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی مقرر کرتا ہے۔

