پاکستان اور اسلامی تعاون تنظیم کے شماریاتی، اقتصادی اور سماجی تحقیق و تربیت مرکز سیسرک نے او آئی سی رکن ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے نئے راستوں پر بات چیت کی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری و بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے سیسرک کی ڈائریکٹر جنرل زہرہ زمرُت سلچک سے اسلام آباد میں انٹرنیشنل ایجوکیشن سمٹ اینڈ ایکسپو 2026 کے موقع پر ملاقات کی۔
گفتگو میں سرمایہ کاری، تجارت، تعلیم، ہنرمندی، کاروباری سرگرمی، انسانی سرمایہ اور ادارہ جاتی تعاون کو مرکزی موضوع بنایا گیا۔ دونوں جانب سے اس خواہش کا اظہار ہوا کہ مشترکہ اہداف کو عملی سرمایہ کاری شراکت، کاروباری رابطوں اور تربیتی اقدامات میں بدلا جائے۔ تاہم جاری بیان میں کسی نئے فنڈ، معاہدے، سرمایہ کاری رقم، شریک کمپنی یا نفاذ کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا، اس لیے موجودہ پیش رفت کو ابتدائی ادارہ جاتی مشاورت سمجھنا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے او آئی سی ممالک کے مشترکہ وسائل، منڈیوں اور نوجوان انسانی سرمائے کو سرحد پار سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور کاروبار سے کاروبار روابط کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاروں کے لیے ضابطہ جاتی طریقہ کار آسان بنانے، غیر ضروری رکاوٹیں کم کرنے اور کاروباری تجربہ زیادہ قابلِ پیش گوئی بنانے پر کام کر رہا ہے۔ ان دعووں کا عملی جائزہ بعد میں ضابطوں، منظوری کے اوقات اور حقیقی سرمایہ کاری کے اعداد سے ہوگا۔
ملاقات میں ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی اور علم پر مبنی صنعتوں کا بھی ذکر ہوا۔ دونوں فریقوں نے حکومتوں، سرمایہ کاری اداروں، جامعات، کاروباری اداروں اور نجی شعبے کے درمیان رابطے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تعلیم اور مہارت کو ابھرتی صنعتوں کی ضرورت کے مطابق بنایا جا سکے۔ نوجوانوں کے لیے مواقع اور صلاحیت سازی کو ممکنہ مشترکہ پروگراموں کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔
سیسرک کی ڈائریکٹر جنرل نے پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے اور او آئی سی ممالک میں اقتصادی مواقع پیدا کرنے کے لیے ادارہ جاتی رابطے کی حمایت کی۔ دونوں جانب سے سرمایہ کاری کی ترویج، کاروباری نیٹ ورک، تعلیم، ہنرمندی اور صلاحیت سازی میں مشترکہ اقدامات تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ایک دوسرے کے دفاتر کے دوروں کی دعوت بھی دی گئی، مگر اگلی ملاقات یا کسی ورکنگ گروپ کا باقاعدہ شیڈول جاری نہیں ہوا۔
اس پیش رفت کی اہمیت تب واضح ہوگی جب مشاورت سے مخصوص پروگرام، شریک ادارے، مالی ڈھانچہ اور قابلِ پیمائش اہداف سامنے آئیں۔ فی الحال قابلِ تصدیق نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان اور سیسرک نے تعاون کے متعدد شعبے شناخت کیے اور رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اردو ہیڈ لائنز کسی باضابطہ منصوبے، مفاہمتی یادداشت یا سرمایہ کاری فیصلے کو متعلقہ اداروں کی دستاویزی تصدیق کے بعد الگ رپورٹ کرے گا۔




