سیول میں پاکستان–کوریا تجارت و سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران دونوں ممالک کی کمپنیوں نے چھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق کانفرنس میں 91 کوریائی اور 82 پاکستانی کاروباری افراد، پاکستانی برادری اور سیالکوٹ و گوجرانوالہ چیمبرز کے وفود سمیت 170 سے زیادہ شرکا موجود تھے۔ مفاہمتیں کاروباری رابطوں کی ابتدائی دستاویزات ہیں، انہیں حتمی فروخت، سرمایہ کاری یا لازمی تجارتی معاہدہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
کانفرنس ایسے وقت ہوئی جب پاکستان اور جمہوریہ کوریا جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے یا CEPA پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے بتایا کہ مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو چکا ہے اور دوسرا دور جلد متوقع ہے۔ ابھی معاہدے کا حتمی متن، ٹیرف رعایتوں کی فہرست، نفاذ کی تاریخ یا منظوری کا مرحلہ جاری نہیں ہوا، اس لیے CEPA کو مکمل شدہ معاہدہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
وزیر تجارت نے کہا کہ حتمی معاہدہ پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے اور دونوں ممالک کے معاشی تعلقات مضبوط بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کاروباری برادریوں پر زور دیا کہ مذاکرات مکمل ہونے سے پہلے ہی عملی شراکتیں تلاش کریں۔ یہ ممکنہ فوائد حکومتی توقعات ہیں؛ اصل اثر معاہدے کی شرائط، مصنوعات کی مسابقت، معیار کے تقاضوں اور کاروباری عمل درآمد سے سامنے آئے گا۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام نے پاکستان کی ٹیکسٹائل و ملبوسات، چمڑے، جراحی و کھیلوں کے سامان، زرعی خوراک، معدنیات اور آئی ٹی خدمات کی برآمدی صلاحیت پیش کی۔ کاروبار سے کاروبار نشستوں میں نمک، کاسمیٹکس، تیل اور تل کے بیجوں کی تجارت سمیت مختلف شعبوں میں چھ مفاہمتیں ہوئیں۔ جاری اطلاع میں ہر دستاویز کی قدر، کمپنیوں کی مکمل ذمہ داریاں یا ترسیل کی تاریخ شامل نہیں۔
کانفرنس میں سیول میں پاکستانی سفیر اور ڈائیگو چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب چیئرمین نے بھی خطاب کیا۔ پاکستان بزنس ایسوسی ایشن آف کوریا اور پاکستانی سفارت خانے نے انتظام میں معاونت کی، جبکہ سفارت خانے کا تجارتی شعبہ کوریائی سرمایہ کاروں اور تجارتی شراکت داروں کے لیے رابطہ مرکز رہے گا۔ یہ ادارہ جاتی سہولت کاروباری رابطے آسان بنا سکتی ہے مگر نجی معاہدوں کی تجارتی کامیابی کی ضمانت نہیں۔
مارچ 2027 میں سیول میں دوسری کانفرنس منعقد کرنے کا منصوبہ بھی بتایا گیا، جسے CEPA مکمل ہونے کے بعد موجودہ رفتار آگے بڑھانے سے جوڑا گیا ہے۔ اگلی قابلِ تصدیق پیش رفت میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تاریخ، CEPA کے حتمی ابواب، چھ مفاہمتوں سے نکلنے والے باقاعدہ تجارتی معاہدے اور حقیقی برآمدی آرڈر شامل ہوں گے۔ اردو ہیڈ لائنز مفاہمت، حتمی معاہدے اور مکمل ہونے والی تجارت کے درمیان فرق واضح رکھتے ہوئے آئندہ پیش رفت رپورٹ کرے گا۔




