وفاقی حکومت نے پاکستان کی قیمتی پتھروں کی صنعت میں منظم کان کنی، قدر افزائی، برانڈنگ اور عالمی منڈی تک رسائی بہتر بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر کام تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں ٹوپاز، روبی اور دوسرے قیمتی پتھروں کے کان کنی بلاکس کی نشاندہی، سرمایہ کاری اور برآمدی سہولتوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں صوبوں کو ساتھ لے کر سرمایہ کار دوست پالیسیوں کا یکساں نفاذ، معدنی وسائل کے ڈیٹا کی ڈیجیٹلائزیشن اور جامع نقشہ بندی کی تجویز دی گئی۔ مقصد یہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو ذخائر، مقام اور متعلقہ انتظامی معلومات زیادہ منظم شکل میں مل سکیں۔ تاہم موجودہ اعلان میں کسی مخصوص کان کنی بلاک کی بولی، لائسنس، سرمایہ کاری رقم یا پیداوار کا حتمی ہدف نہیں دیا گیا۔

حکمتِ عملی کا دوسرا حصہ خام پتھر برآمد کرنے کے بجائے مقامی کٹنگ، پالش، گریڈنگ، سرٹیفکیشن اور زیورات سازی کے ذریعے قدر افزائی بڑھانا ہے۔ وزارتِ صنعت و پیداوار کی قومی جیم اسٹون پالیسی 2026–30 بھی جدید مشینری، بہتر تربیتی نصاب، اخلاقی ذرائع، معیار کی تصدیق اور بین الاقوامی اداروں سے تعاون پر زور دیتی ہے۔ اس پالیسی کا عملی فائدہ تب ہوگا جب مقامی کاروبار معیار، سرٹیفکیشن اور قابلِ اعتماد سپلائی کے ذریعے زیادہ قیمت حاصل کریں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ کراچی اور اسلام آباد میں مخصوص جیم اسٹون نمائشیں منعقد کرنے کی تیاری ہے تاکہ کان کن، تاجر، برآمد کنندگان اور کاروبار بین الاقوامی خریداروں سے رابطہ کر سکیں۔ تھائی لینڈ اور ایران کے ساتھ تعاون اور منڈی تک رسائی کے امکانات پر رابطہ جاری رہنے کی بھی اطلاع دی گئی۔ کسٹمز اور نجی شعبہ متعلقہ ایچ ایس کوڈز میں تبدیلی پر کام کر رہے ہیں، لیکن کسی ترمیم کی حتمی قانونی عبارت یا نفاذ تاریخ موجودہ خبر میں نہیں دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق جیم اسٹون اور جیولری شعبے میں تقریباً 12 ہزار تربیتی پروگرام کیے جا چکے ہیں اور مزید تین کورس جاری ہیں۔ کوئٹہ میں مخصوص تربیتی مرکز اور گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں مراکزِ مہارت قائم کرنے کا منصوبہ بھی بتایا گیا۔ وزارت کے موجودہ ریکارڈ میں پہلے سے مختلف شہروں میں تربیتی اور شناختی سہولتوں کا ذکر ہے، اس لیے نئے مراکز کی حیثیت، دائرۂ کار اور پرانے نظام سے تعلق باضابطہ منصوبہ دستاویز میں واضح ہونا ضروری ہوگا۔

پاکستان کے جیم اسٹون شعبے کے لیے اصل امتحان رسمی کان کنی حقوق، محفوظ اور ذمہ دار استخراج، قابلِ اعتماد لیبارٹری سرٹیفکیشن، مقامی قدر افزائی، ہنرمند افرادی قوت اور برآمدی معاہدوں کی شفاف پیمائش ہے۔ ایکسپوز یا مراکز کے اعلان کو خودکار برآمدی اضافہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اردو ہیڈ لائنز کان کنی بلاکس، مراکز، نمائشوں، ایچ ایس کوڈ تبدیلیوں اور برآمدی نتائج کو متعلقہ وزارت اور کسٹمز کے باضابطہ ریکارڈ کے بعد الگ طور پر اپ ڈیٹ کرے گا۔