اسلام آباد: سول آرمڈ فورسز نے مالی سال 2025-26 کے دوران اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 18.55 ارب روپے مالیت کا سامان ضبط کیا۔ دی نیشن کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق یہ اعداد ایک سرکاری ذریعے سے جاری کیے گئے اور مختلف فورسز کے حصے الگ الگ بتائے گئے ہیں۔ ضبطگی کا مطلب سامان کا سرکاری تحویل میں لیا جانا ہے؛ حتمی ضبط یا سزا متعلقہ قانونی کارروائی کے بعد طے ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی مالیت کا تقریباً 55 فیصد فرنٹیئر کور بلوچستان کی کارروائیوں سے متعلق تھا۔ ایف سی جنوبی بلوچستان کے لیے 6.78 ارب روپے اور ایف سی شمالی بلوچستان کے لیے 3.42 ارب روپے کی مالیت بتائی گئی۔ پاکستان کوسٹ گارڈز کی ضبطگیوں کی مالیت 4.84 ارب روپے درج کی گئی، جس سے ساحلی اور زمینی راستوں دونوں پر کارروائیوں کا حجم سامنے آتا ہے۔

دوسری فورسز میں پنجاب رینجرز کے لیے 1.99 ارب روپے، ایف سی شمالی خیبر پختونخوا کے لیے 1.09 ارب روپے، سندھ رینجرز کے لیے چار کروڑ روپے اور ایف سی جنوبی خیبر پختونخوا کے لیے 3 کروڑ 53 لاکھ روپے کی مالیت رپورٹ ہوئی۔ یہ تخمینے ضبط شدہ اشیا کی رپورٹ شدہ قدر ہیں، قومی خزانے میں اسی قدر کی نقد وصولی نہیں۔ اشیا کی قیمت لگانے کے طریقۂ کار سے بھی حتمی رقم متاثر ہو سکتی ہے۔

اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں قانونی تجارت، محصولات اور مقامی صنعت کے تحفظ سے جوڑی جاتی ہیں، لیکن اعداد کی مکمل تشریح کے لیے ضبط اشیا کی اقسام، مقدمات کی تعداد، مقامات اور بعد کے قانونی نتائج بھی درکار ہوتے ہیں۔ موجودہ خبر مجموعی مالیت اور فورس وار تقسیم دیتی ہے، تاہم ہر کیس کی تفصیل یا عدالتوں میں نتیجہ شامل نہیں کرتی۔

موثر انسداد اسمگلنگ پالیسی میں سرحدی نگرانی کے ساتھ کسٹمز ڈیٹا، قانونی تجارتی راستوں کی سہولت، سامان کی قابل سراغ نقل و حرکت اور بدعنوانی کے خلاف داخلی نگرانی بھی اہم ہے۔ صرف ضبطگی کی بلند مالیت کبھی زیادہ مؤثر کارروائی اور کبھی اسمگلنگ کے بڑے حجم دونوں کی علامت ہو سکتی ہے؛ رجحان جانچنے کے لیے کئی برس کے تقابلی اعداد ضروری ہیں۔

یہ رپورٹ دی نیشن میں شائع ہونے والے سرکاری اعداد کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ تمام مالیتیں رپورٹ شدہ ضبطگیوں کے طور پر لکھی گئی ہیں، نہ کہ ثابت شدہ جرائم، نقد آمدن یا حتمی عدالتی فیصلوں کے طور پر؛ کسی غیر مذکور سامان یا مقدمے کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک