تین روزہ 14ویں پاکستان سولر اینڈ انرجی اسٹوریج ایکسپو 2026 کا کراچی ایکسپو سینٹر میں آغاز ہوگیا ہے۔ نمائش میں ملک بھر اور بیرون ملک سے شمسی توانائی، بیٹری اسٹوریج، انورٹرز اور متعلقہ ٹیکنالوجیز سے وابستہ مینوفیکچررز، تقسیم کار، سرمایہ کار اور توانائی ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔

منتظمین کے مطابق ایکسپو کا مقصد نئی ٹیکنالوجیز کی نمائش، کاروباری شراکت داری اور پاکستان کے قابل تجدید توانائی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان میں سولر پینلز کی درآمد اور گھریلو و صنعتی سطح پر شمسی نظام کی تنصیب میں تیزی آئی ہے۔

شمسی پیداوار میں اضافے کے ساتھ بیٹری اسٹوریج کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے کیونکہ سورج کی روشنی نہ ہونے کے اوقات میں ذخیرہ شدہ بجلی استعمال کی جا سکتی ہے۔ صنعت کے لیے بیٹری قیمت، معیار، حفاظت، ری سائیکلنگ اور مقامی مینوفیکچرنگ اہم پالیسی اور کاروباری موضوعات ہیں۔

پاکستان کے بجلی شعبے میں بلند ٹیرف، گرڈ کی محدود گنجائش اور تقسیم کے مسائل نے صارفین کو متبادل توانائی کی طرف راغب کیا ہے۔ تاہم بڑے پیمانے پر سولر اپنانے سے گرڈ فنانسنگ، نیٹ میٹرنگ اور روایتی بجلی صارفین پر لاگت کی تقسیم جیسے نئے چیلنج بھی پیدا ہوئے ہیں۔

ایکسپو کسی حکومتی سرمایہ کاری معاہدے کے بجائے صنعت اور کاروباری رابطے کا پلیٹ فارم ہے۔ اس کا حقیقی اثر نئی ڈیلز، مقامی پیداوار، تکنیکی شراکت داری اور قابل اعتماد توانائی حل کی مارکیٹ میں دستیابی سے ظاہر ہوگا۔ تین روزہ اجتماع پاکستان کی توانائی منتقلی میں سولر کے ساتھ اسٹوریج کو بڑھتی ہوئی مرکزی حیثیت ملنے کی نشاندہی کرتا ہے۔