وزارت خزانہ نے سرکاری ملکیتی اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تقرری، شمولیت اور کارکردگی جانچ کے لیے تازہ ہدایات جاری کردی ہیں۔ ڈان کے مطابق نئی ڈائریکٹرز اپائنٹمنٹ اینڈ ایویلیوایشن گائیڈ لائنز تمام متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور سرکاری اداروں کو بھیجی گئی ہیں تاکہ 2023 کے ایس او ای قانون کے تحت عمل زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جاسکے۔

نیا فریم ورک بنیادی طور پر آزاد ڈائریکٹرز کے انتخاب پر لاگو ہوگا، جبکہ حکومت متعلقہ سرکاری افسران کو بدستور بعض بورڈز میں باضابطہ عہدوں کے لیے نامزد کرسکے گی۔ کسی آزاد ڈائریکٹر کی نشست خالی ہونے پر بورڈ فوری اطلاع دے گا اور مطلوبہ علم، مہارت و تجربے کے بارے میں بورڈ نامزدگی کمیٹی کو سفارش بھیجے گا۔

بورڈ کی مدت ختم ہونے سے کم از کم تین ماہ پہلے جامع رپورٹ دینا ہوگی۔ اس رپورٹ میں مقررہ اہداف کے مقابلے میں مجموعی کارکردگی، اختیار کی گئی حکمت عملی، ناکامیوں کی وجوہ، ادارے کی مالی و غیر مالی حالت کا ابتدائی و اختتامی موازنہ، انفرادی ڈائریکٹرز کی جانچ اور بورڈ میں مہارت کے خلا کی نشاندہی شامل ہوگی۔

نامزدگی کمیٹی ہر خالی نشست کے لیے کم از کم تین امیدواروں پر غور کرے گی اور سفارش موجودہ ڈائریکٹر کی مدت ختم ہونے سے ایک ماہ پہلے حکومت کو بھیجے گی۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد متعلقہ وزارت تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی اور سرکاری ادارہ اسے اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے گا۔ جن ڈائریکٹرز نے تربیتی پروگرام مکمل نہ کیا ہو انہیں تقرری کے تین ماہ میں تربیت لینا ہوگی۔

مفادات کے ٹکراؤ کے لیے ہر ادارے کو معیاری رجسٹر برقرار رکھنا ہوگا۔ کسی معاملے میں ذاتی یا وابستہ مفاد رکھنے والا ڈائریکٹر بحث اور ووٹنگ میں حصہ نہیں لے سکے گا اور اس ایجنڈا آئٹم کے لیے اس کی موجودگی کورم میں شمار نہیں ہوگی۔ سالانہ، مدت کے اختتام اور استعفے کے وقت کارکردگی جانچ لازمی ہوگی۔

ڈان نے سرکاری اداروں کی مجموعی ذمہ داریاں 9 کھرب روپے سے زیادہ بتائی ہیں، جس سے بورڈ نگرانی کی اہمیت بڑھتی ہے۔ تاہم نئی ہدایات کے نتائج تقرری کے معیار، آزاد جانچ اور عملی نفاذ سے ظاہر ہوں گے۔ اردو ہیڈ لائنز قواعد کے اجرا کو کسی مخصوص بورڈ کی فوری برطرفی یا کسی فرد کے خلاف کارروائی نہیں سمجھتا۔