اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ہاؤسنگ فنانس کے ضوابط میں ترمیم کرتے ہوئے قرض کی زیادہ سے زیادہ مدت 20 سال سے بڑھا کر 30 سال کردی ہے۔ ڈان کے مطابق مرکزی بینک کی نئی پرڈینشل ریگولیشنز میں رہائشی قرض کے لیے زیادہ سے زیادہ لون ٹو ویلیو تناسب 90:10 مقرر کیا گیا ہے۔
لون ٹو ویلیو تناسب کا مطلب ہے کہ منظور شدہ مکان یا جائیداد کی قدر کے مقابلے میں قرض کی حد طے ہوگی۔ 90:10 کی حد عمومی فریم ورک بیان کرتی ہے؛ کسی درخواست گزار کو مکمل 90 فیصد قرض ملنا لازمی نہیں۔ بینک اپنی کریڈٹ جانچ، جائیداد کی قیمت، آمدن اور دیگر شرائط کے مطابق فیصلہ کریں گے۔
ترمیم شدہ قرض بوجھ ضابطے کے تحت مجوزہ ہاؤسنگ فنانس اور درخواست گزار کی دیگر تمام کنزیومر فنانسنگ کی مجموعی ماہانہ ادائیگی اس کی قابل تصرف خالص آمدن کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ بینک اور ترقیاتی مالی ادارے غیر رسمی آمدن رکھنے والے افراد کی ادائیگی کی صلاحیت جانچنے کے لیے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے منظور شدہ تخمینی ماڈل استعمال کرسکیں گے۔
رہائشی قرض گھر یا اپارٹمنٹ خریدنے، اپنی زمین پر مکان تعمیر کرنے، پلاٹ خرید کر اس پر تعمیر کرنے، موجودہ گھر میں توسیع، مرمت اور رہائشی یونٹ میں قابل تجدید توانائی کے حل نصب کرنے کے لیے دیا جاسکتا ہے۔ یہ فہرست قرض کے جائز استعمال بتاتی ہے اور تجارتی جائیداد یا غیر متعلقہ اخراجات کو خودکار طور پر شامل نہیں کرتی۔
اسٹیٹ بینک نے بینکوں اور مالی اداروں کو سادہ اور معیاری درخواست فارم اپنانے اور مطلوبہ دستاویزات کی فہرست اردو و انگریزی میں، کاغذی اور ڈیجیٹل دونوں شکلوں میں فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ طویل مدت سے ماہانہ قسط کم ہوسکتی ہے، لیکن مجموعی منافع یا مارک اپ کی ادائیگی زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔
درخواست گزار کسی پیشکش کو قبول کرنے سے پہلے شرح، متغیر یا مقررہ مارک اپ، قبل از وقت ادائیگی کی شرط، انشورنس اور تمام فیسیں تحریری طور پر دیکھیں۔ اردو ہیڈ لائنز نئی زیادہ سے زیادہ مدت کو ہر بینک کی فوری تجارتی پیشکش یا قرض کی ضمانت نہیں سمجھتا۔ ہر درخواست بینک کی پالیسی اور انفرادی مالی جانچ کے مطابق منظور ہوگی۔




