اسلام آباد: پاکستان 15 اکتوبر 2026 سے ملک بھر میں نئے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹس، یعنی ایم آر پیز، کا اجرا بند کرنے جا رہا ہے، جس کے بعد پاسپورٹ اجرا کا نظام مکمل طور پر الیکٹرانک پاسپورٹس کی جانب منتقل ہوگا۔ یہ تبدیلی سفری دستاویزات میں جدید سکیورٹی خصوصیات اور ڈیجیٹل شناخت کے استعمال کو بڑھانے کی حکومتی پالیسی کا حصہ ہے۔

دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق مقررہ تاریخ کے بعد نئے پاسپورٹ کے اجرا کے لیے ای پاسپورٹ نظام بنیادی طریقہ ہوگا۔ ای پاسپورٹ میں الیکٹرانک چِپ استعمال ہوتی ہے جس میں حامل پاسپورٹ کی شناخت سے متعلق محفوظ معلومات رکھی جاتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد دستاویز کی جعل سازی کے امکانات کم کرنا اور بین الاقوامی سرحدی نظام کے ساتھ تصدیق کے عمل کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ پاکستان میں طویل عرصے سے معیاری سفری دستاویز کے طور پر جاری کیے جاتے رہے ہیں۔ ای پاسپورٹ متعارف ہونے کے بعد دونوں اقسام کچھ عرصہ ساتھ ساتھ دستیاب رہیں، تاہم اب نئے ایم آر پی کے اجرا کو مرحلہ وار ختم کرنے کی سمت واضح تاریخ سامنے آئی ہے۔

اس تبدیلی کا تعلق نئے پاسپورٹ کے اجرا سے ہے۔ پہلے سے جاری اور اپنی مدت کے اندر موجود سفری دستاویزات کے استعمال سے متعلق شہریوں کو متعلقہ سرکاری ہدایات دیکھنی چاہییں، کیونکہ کسی موجودہ پاسپورٹ کی قانونی حیثیت، تجدید یا تبدیلی کے قواعد اس کے اجرا اور میعاد کی تفصیلات پر منحصر ہوسکتے ہیں۔ خبر میں ایسی تمام موجودہ دستاویزات کی فوری منسوخی کا ذکر نہیں کیا گیا۔

ای پاسپورٹ نظام کی توسیع سے پاسپورٹ دفاتر، بیرون ملک پاکستانی مشنز اور درخواست گزاروں کے لیے طریقہ کار میں عملی تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ شہریوں کے لیے اہم بات یہ ہوگی کہ وہ درخواست دینے سے پہلے فیس، مطلوبہ دستاویزات، پراسیسنگ مدت اور متعلقہ پاسپورٹ دفتر کی تازہ ہدایات کی تصدیق کریں۔ 15 اکتوبر کی منتقلی پاکستان کے پاسپورٹ اجرا کے نظام میں ایک اہم تکنیکی مرحلہ ہوگی۔