اسلام آباد: پاکستان اور سوڈان نے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے لیے ویزا شرائط سے استثنا کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سوڈانی وزیر خارجہ محی الدین سالم کی موجودگی میں طے پایا، جس کا مقصد دونوں ملکوں کے سرکاری اور سفارتی رابطوں میں آمدورفت کو آسان بنانا ہے۔

معاہدے کا دائرہ عام پاسپورٹ رکھنے والے تمام شہریوں تک نہیں پھیلتا بلکہ اس کا تعلق سفارتی اور سرکاری پاسپورٹس سے ہے۔ اس فرق کی وضاحت اس لیے اہم ہے کہ ویزا استثنا کی خبر کو عمومی ویزا فری سفر کے طور پر نہ سمجھا جائے۔ متعلقہ حکومتوں کے قواعد اور معاہدے کی عملی شرائط کے تحت اہل سرکاری اور سفارتی مسافروں کو سہولت حاصل ہوگی۔

دستخطوں کے موقع پر پاکستان اور سوڈان کے وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر بھی گفتگو کی۔ پاکستان اور سوڈان کے درمیان سفارتی روابط مسلم دنیا اور افریقی خطے کے ساتھ پاکستان کے وسیع تر تعلقات کا حصہ ہیں۔ اس نوعیت کے ویزا معاہدے عموماً سرکاری وفود، سفارتی مشنز اور باہمی ادارہ جاتی رابطوں کو سہل بنانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔

سوڈان کئی برس سے مسلح تنازع اور انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث اس کے بین الاقوامی اور علاقائی تعلقات میں انسانی امداد، سیاسی استحکام اور ریاستی اداروں کی فعالیت اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے سوڈان کے ساتھ سفارتی رابطہ برقرار رکھا ہے، تاہم تازہ معاہدہ بنیادی طور پر سفارتی اور سرکاری سفر کی سہولت سے متعلق ہے اور اسے سوڈان کے داخلی تنازع سے متعلق کسی نئے سیاسی سمجھوتے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان سرکاری سطح کے دوروں اور رابطوں میں انتظامی رکاوٹیں کم ہونے کی توقع ہے۔ مستقبل میں تجارت، تعلیم، دفاعی تعاون یا دیگر شعبوں میں تعلقات کی توسیع الگ دوطرفہ فیصلوں اور پالیسی اقدامات پر منحصر ہوگی۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہی ہے کہ پاکستان اور سوڈان نے مخصوص پاسپورٹ کیٹیگریز کے لیے ویزا استثنا کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور اسے دوطرفہ سفارتی تعاون میں ایک عملی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔