اسلام آباد: پاکستان اور سوڈان نے سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کے لیے باہمی ویزا فری سفر کا معاہدہ کر لیا ہے۔ وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور سوڈان کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل بابرکر سمرہ مصطفی علی نے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس سہولت کے تحت دونوں ملکوں کے سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد ایک دوسرے کے ملک میں ویزا حاصل کیے بغیر داخل ہو سکیں گے۔

وزارت داخلہ نے معاہدے کو پاکستان اور سوڈان کے دوطرفہ تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اعلیٰ سطح کے رابطوں اور سرکاری وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی۔ دونوں وزرائے داخلہ نے اس انتظام کا خیرمقدم کیا اور توقع ظاہر کی کہ ادارہ جاتی تعاون اور سرکاری سطح کے روابط کے لیے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ سہولت عام پاسپورٹ رکھنے والے تمام مسافروں کے لیے نہیں بلکہ واضح طور پر سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ تک محدود ہے۔

اسی دورے کے دوران دونوں ممالک نے سائبر کرائم کے خلاف تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں سکیورٹی، داخلی امور، پولیس تربیت، ادارہ جاتی تعاون اور نادرا سے متعلق شعبوں میں تعاون وسیع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ سوڈانی وفد نے سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے تجربے اور مہارت سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔

محسن نقوی نے سوڈانی وزیر داخلہ کو شہری رجسٹریشن کے شعبے میں نادرا کے تعاون سے متعلق بھی آگاہ کیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق نادرا کے تعاون سے سوڈان میں لاکھوں شہری دستاویزات جاری کی جا چکی ہیں، جن میں شہریت کارڈ، قومی شناختی کارڈ اور پیدائش و وفات کے سرٹیفکیٹس شامل ہیں۔ پاکستانی وزیر داخلہ نے کہا کہ نادرا شہری رجسٹریشن کے عمل میں تعاون جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

ملاقات میں پاکستان میں مقیم شادی شدہ سوڈانی خواتین کو درپیش بعض ویزا مسائل بھی زیر بحث آئے۔ وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق سوڈانی وزیر کے سوال پر محسن نقوی نے متعلقہ مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت کی۔

پاکستان اور سوڈان کے درمیان یہ پیش رفت سفری سہولت تک محدود نہیں بلکہ داخلی سلامتی اور سرکاری اداروں کے درمیان عملی تعاون کے وسیع ایجنڈے کا حصہ ہے۔ معاہدے کی اصل اہمیت سرکاری اور سفارتی رابطوں میں آسانی ہے، جبکہ سائبر کرائم اور شہری رجسٹریشن کے معاملات پر ہونے والی پیش رفت الگ تعاون کے شعبے ہیں جن پر مزید ادارہ جاتی اقدامات متوقع ہیں۔