اسلام آباد میں 11 ستمبر 2026 کو وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستان میں تاجکستان کے سفیر یوسف شریف زودہ سے ملاقات کی۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تجارت، زرعی تعاون، اقتصادی روابط اور دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بات چیت ہوئی۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیر نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان موجودہ تجارتی حجم میں اضافے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے زیادہ رابطے اور تجارت کے نئے و متبادل راستوں کی تلاش ضروری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان زراعت، فوڈ پروسیسنگ، لائیوسٹاک، زرعی ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن میں تعاون کی صلاحیت پر بھی گفتگو کی گئی۔

تاجک سفیر نے دوطرفہ تجارت میں کمی سے متعلق خدشات کا ذکر کرتے ہوئے تجارت کو بحال اور بڑھانے کے لیے متبادل مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ فریقین نے کاروباری اداروں کے باہمی رابطوں کو بڑھانے اور خوراک و زراعت کے شعبوں میں نئے تعاون کے امکانات پر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

ملاقات میں علاقائی روابط اور تجارت کی اہمیت بھی زیر بحث آئی۔ وسطی ایشیا کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی روابط میں جغرافیائی رسائی اور تجارتی انفراسٹرکچر اہم کردار رکھتے ہیں، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون کا انحصار نقل و حمل، کاروباری رابطوں اور تجارتی انتظامات پر ہوگا۔

سرکاری بیان میں کسی نئے تجارتی معاہدے کی حتمی مالیت یا فوری طور پر شروع ہونے والے مخصوص منصوبوں کی تفصیل شامل نہیں تھی۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو تعاون بڑھانے کے عزم اور ممکنہ شعبوں کی نشاندہی کے طور پر بیان کرنا درست ہے۔ تصدیق شدہ طور پر پاکستان اور تاجکستان نے تجارت، زراعت اور اقتصادی تعاون کے لیے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔