اسلام آباد: قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2020-21 سے 2024-25 کے دوران پاکستان میں ٹیکس چھوٹ اور مراعات کی مجموعی مالیت 11 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے ایوان میں پیش کیے گئے اعداد و شمار نے پانچ سال کے دوران مختلف ٹیکس رعایتوں کے حجم کو نمایاں کیا ہے۔

رپورٹ کردہ سرکاری اعداد کے مطابق مالی سال 2020-21 میں ٹیکس چھوٹ اور مراعات کی مالیت 1,482 ارب روپے تھی۔ اگلے مالی سال 2021-22 میں یہ رقم بڑھ کر 2,239 ارب روپے ہوئی، جبکہ 2022-23 میں 2,540 ارب روپے کی سطح تک پہنچی۔ 2023-24 اور 2024-25 کے لیے 2,352 ارب روپے سالانہ کی رقم بتائی گئی۔ مجموعی طور پر پانچ سالہ حجم 11 ہزار ارب روپے سے زیادہ بنتا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے وزارت خزانہ کے حوالے سے مجموعی رقم 11.047 ٹریلین روپے رپورٹ کی ہے۔

قومی اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام کی رکن عالیہ کامران نے ان ٹیکس مراعات کے عوامی فائدے کے بارے میں سوال اٹھایا اور حکومت سے وضاحت مانگی کہ عام شہریوں کو ان رعایتوں سے کیا فائدہ پہنچا۔ بحث کے دوران پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے قرض لینے کے مستقبل کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔ پارلیمانی سیکریٹری نے کسی حتمی یقین دہانی سے گریز کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ 2027 آئی ایم ایف سے قرض لینے کا آخری سال ہو سکتا ہے۔ یہ بیان یقین دہانی یا طے شدہ نتیجہ نہیں بلکہ ایوان میں ظاہر کی گئی امید تھی۔

پانچ سالہ اعداد اس وقت سامنے آئے ہیں جب حکومت محصولات بڑھانے، ٹیکس بنیاد وسیع کرنے اور مختلف شعبوں کو دی جانے والی رعایتوں کی لاگت پر بحث کر رہی ہے۔ ٹیکس استثنا اور رعایتیں مختلف پالیسی مقاصد، شعبوں اور درآمدی یا مقامی سرگرمیوں سے منسلک ہو سکتی ہیں، اس لیے مجموعی رقم کو کسی ایک صنعت یا گروہ سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ دستیاب پارلیمانی اعداد پورے عرصے میں دی گئی مختلف اقسام کی مراعات کا مجموعی حجم ظاہر کرتے ہیں۔

ایوان میں پیش ہونے والے اعداد مالیاتی پالیسی کے لیے اس لیے اہم ہیں کہ ٹیکس چھوٹ براہ راست ممکنہ محصولات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ حکومت کو ایک طرف سرمایہ کاری، صنعت یا سماجی مقاصد کے لیے مخصوص رعایتیں برقرار رکھنے اور دوسری طرف بجٹ خسارے اور محصولات کے اہداف پورے کرنے کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔

تازہ اعداد نے پارلیمان میں یہ سوال دوبارہ نمایاں کیا ہے کہ بڑی مالی مراعات کی لاگت، فائدہ اٹھانے والے شعبوں اور عوامی فائدے کا باقاعدہ جائزہ کس طرح لیا جائے۔ وزارت خزانہ کے پیش کردہ اعداد اس بحث کے لیے مالی حجم فراہم کرتے ہیں، تاہم ہر رعایت کے الگ معاشی اثر یا فائدے کے بارے میں اس رپورٹ میں کوئی حتمی نتیجہ پیش نہیں کیا گیا۔