کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے لیے کارکنوں کی ترسیلات زر اور اپنے زرمبادلہ ذخائر کے تخمینے اوپر کی جانب نظرثانی کیے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے مانیٹری پالیسی فیصلے کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ ترسیلات زر کی سالانہ آمد اب 45 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے، جو پہلے 44 ارب ڈالر کے تخمینے سے ایک ارب ڈالر زیادہ ہے۔

گورنر کے مطابق مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کا اندازہ ہے کہ ذخائر دسمبر 2026 کے اختتام تک 23 ارب ڈالر اور جون 2027 تک 25 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اہداف بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی فنانسنگ ضروریات کو مدنظر رکھ کر طے کیے گئے ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے مالی سال کے لیے برآمدات 32.5 سے 33 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کا اندازہ دیا ہے، جبکہ درآمدی بل تقریباً 71 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے صفر سے ایک فیصد کی پہلے سے بتائی گئی حد کے اندر رہنے کا تخمینہ برقرار رکھا گیا ہے۔ مرکزی بینک نے عالمی اجناس کی بلند قیمتوں، بین الاقوامی مالی حالات میں سختی اور سپلائی کی رکاوٹوں کو اس منظرنامے کے اہم خطرات قرار دیا ہے۔

جمیل احمد نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں اسٹیٹ بینک نے زرمبادلہ مارکیٹ سے تقریباً 30 ارب ڈالر خریدے، تاہم اس رقم کا ایک بڑا حصہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور دیگر بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے میں استعمال ہوا۔ ان کے مطابق بہتر بیرونی پوزیشن کے نتیجے میں بینکاری نظام پر اعتماد بھی مضبوط ہوا اور لیٹر آف کریڈٹ کی تصدیق سے متعلق وہ بلند اخراجات ختم ہوئے جو چند برس پہلے کاروباروں کو برداشت کرنا پڑ رہے تھے۔

ترسیلات زر میں اضافے کے حوالے سے گورنر نے کہا کہ اسے صرف بیرون ملک جانے والے کارکنوں کی تعداد میں اضافے سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق بہتر شرح مبادلہ، انڈر انوائسنگ میں کمی، سرحدی نگرانی اور ایکسچینج کمپنیوں میں اصلاحات نے باضابطہ ذرائع سے رقوم کی آمد بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی جانب سے ترسیلات کی حوصلہ افزائی کے لیے 16 ارب روپے کی انعامی اسکیم کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس کی پہلی قرعہ اندازی جنوری 2027 میں متوقع ہے۔

مرکزی بینک نے مالی سال 2026-27 کے لیے جی ڈی پی نمو کا 3.5 سے 4.5 فیصد کا تخمینہ بھی برقرار رکھا ہے۔ تاہم ذخائر اور ترسیلات زر سے متعلق اعداد پیش گوئیاں ہیں، حتمی نتائج نہیں؛ ان کا حصول عالمی توانائی قیمتوں، مالیاتی بہاؤ، درآمدی طلب اور دیگر بیرونی حالات پر منحصر رہے گا۔