کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ جون 2027 تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 25 ارب ڈالر تک پہنچنے کی موجودہ پیش گوئی میں امریکا سے زیر غور 10 ارب ڈالر کی ممکنہ مالی سہولت کو شامل نہیں کیا گیا۔ مرکزی بینک کی یہ وضاحت مانیٹری پالیسی کے بعد سامنے آئی، جب گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بیرونی کھاتے اور ذخائر سے متعلق تخمینوں پر گفتگو کی۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق اسٹیٹ بینک نے مالی سال کے اختتام تک ذخائر کے لیے 25 ارب ڈالر کا تخمینہ برقرار رکھا ہے۔ ممکنہ امریکی سہولت کے بارے میں مرکزی بینک کا مؤقف یہ ہے کہ چونکہ اس انتظام کی تفصیلات اور حتمی شکل ابھی طے ہونا باقی ہیں، اس لیے اسے بنیادی ریزرو پروجیکشن میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس وضاحت سے 25 ارب ڈالر کے ہدف اور ممکنہ اضافی بیرونی فنانسنگ کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔
زرمبادلہ ذخائر پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں، درآمدات اور قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت کے اہم اشاریوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ذخائر میں اضافہ بیرونی مالی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم اس کا انحصار برآمدات، ترسیلات زر، براہ راست سرمایہ کاری، کثیرالجہتی و دوطرفہ رقوم، قرضوں کی ادائیگی اور درآمدی بل سمیت کئی عوامل پر ہوتا ہے۔
امریکا سے زیر بحث 10 ارب ڈالر کی سہولت کو حتمی یا موصول شدہ رقم سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اسٹیٹ بینک کی وضاحت کے مطابق یہ ممکنہ انتظام موجودہ تخمینے سے باہر ہے، لہٰذا اس کے اثرات اسی وقت واضح ہوں گے جب مذاکرات مکمل ہوں، شرائط طے ہوں اور کسی قابل عمل فنانسنگ فریم ورک کی باضابطہ تصدیق سامنے آئے۔
مرکزی بینک نے بیرونی کھاتے کے تخمینوں کو ایسے وقت میں اپ ڈیٹ کیا ہے جب عالمی توانائی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے پاکستان کے درآمدی بل اور مہنگائی کے امکانات پر دباؤ بڑھا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے اسی پس منظر میں پالیسی ریٹ میں بھی اضافہ کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذخائر میں بہتری کے باوجود پالیسی ساز بیرونی اور داخلی خطرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
جون 2027 کا 25 ارب ڈالر کا تخمینہ ایک پیش گوئی ہے، ضمانت شدہ نتیجہ نہیں۔ آنے والے مہینوں میں عالمی تیل قیمتیں، درآمدی طلب، برآمدی وصولیاں، ترسیلات، قرضوں کی آمد اور ادائیگیاں اس ہدف کے حصول کی رفتار متعین کریں گی۔
