اسلام آباد: خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی معاونت سے پورٹ قاسم کے قریب 6,409 ایکڑ رقبے پر کراچی انڈسٹریل پارک کے قیام کی منظوری دے دی گئی ہے۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق منصوبہ رقبے کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا صنعتی اقتصادی زون ہوگا اور اس کا مقصد صنعتی سرمایہ کاری کے لیے نئی گنجائش پیدا کرنا اور بندرگاہ کے قریب پیداواری سرگرمیوں کو سہولت دینا ہے۔

اعلان کے مطابق کراچی انڈسٹریل پارک کی مجوزہ جگہ پورٹ قاسم کے قریب ہے، جس سے صنعتی یونٹس کو بندرگاہی اور لاجسٹک رابطوں تک نسبتاً براہ راست رسائی میسر آ سکتی ہے۔ حکومت اور ایس آئی ایف سی حالیہ عرصے میں سرمایہ کاری کے ماحول، صنعتی سہولت کاری اور خصوصی اقتصادی زونز سے متعلق پالیسی اقدامات پر توجہ دے رہے ہیں۔ تاہم سرکاری خبر میں منصوبے کی مجموعی لاگت، تعمیر کے حتمی شیڈول یا اس میں قائم ہونے والے صنعتی یونٹس کی تعداد کی تفصیل نہیں دی گئی۔

اسی پالیسی پیش رفت کے تحت نجی اقتصادی زونز میں بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی کے لیے بھی ایک پالیسی منظور کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نجی شعبے کے صنعتی منصوبوں کو ضروری بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے زیادہ واضح فریم ورک مہیا کرنا ہے۔ صنعتی زونز کی کامیابی عام طور پر بجلی، گیس، پانی، سڑکوں، نکاسی، مواصلاتی رابطوں اور دیگر بنیادی خدمات کی بروقت دستیابی سے جڑی ہوتی ہے، اس لیے انفراسٹرکچر پالیسی سرمایہ کاری کے عملی فیصلوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

پنجاب کے سرکاری خصوصی اقتصادی زونز اور صنعتی اسٹیٹس کے لیے نئی لینڈ لیز پالیسی کی منظوری بھی اسی اعلان کا حصہ ہے۔ نئی پالیسی کے تحت زمین کے استعمال اور صنعتی سرمایہ کاری سے متعلق طریقہ کار کو منظم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سرکاری خبر میں لیز کی مدت، نرخوں یا اہلیت کی مکمل شرائط بیان نہیں کی گئیں، اس لیے ان نکات کا انحصار متعلقہ قواعد اور بعد میں جاری ہونے والی تفصیلی دستاویزات پر ہوگا۔

کراچی انڈسٹریل پارک کی منظوری ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے خصوصی اقتصادی زونز، نجی سرمایہ کاری اور بندرگاہی رابطوں کو پالیسی ترجیحات میں شامل کر رہا ہے۔ منصوبے کے معاشی اثرات کا حتمی اندازہ زمین کی ترقی، بنیادی سہولتوں کی فراہمی، سرمایہ کاروں کی شمولیت اور منصوبے پر عملی پیش رفت کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔