دوحہ: وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے قطر میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے دوران پاکستانی خصوصی اقتصادی زونز، زراعت، خوراک، صنعتی منصوبوں اور مہمان نوازی کے شعبوں میں قطری سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ ملاقاتیں 25 اور 26 اکتوبر کو ورلڈ انویسٹمنٹ فورم 2026 کے موقع پر ہوئیں اور ان کا مرکزی موضوع دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطوں کو وسعت دینا تھا۔
وزیر تجارت نے ڈی ایٹ آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن کے سیکریٹری جنرل، قطر کے وزیر بلدیات، قطر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین اور ریتاج گروپ کے نمائندوں سے الگ الگ تبادلہ خیال کیا۔ پاکستانی وفد نے مختلف شعبوں میں موجود سرمایہ کاری مواقع پیش کیے اور نجی شعبے کے درمیان براہ راست روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ملاقاتوں میں زرعی پیداوار، فوڈ سکیورٹی اور خوراک کی پراسیسنگ کو تعاون کے اہم میدانوں میں شامل کیا گیا۔ پاکستان کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ زرعی وسائل، افرادی قوت اور صنعتی بنیاد کو خلیجی منڈیوں کی طلب اور سرمایہ کاری کے ساتھ جوڑ کر مشترکہ منصوبے تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح خصوصی اقتصادی زونز میں دستیاب سہولتوں اور ممکنہ صنعتی شراکت داری پر بھی گفتگو ہوئی۔
علاقائی رابطوں کے تناظر میں تجارت کے راستوں، لاجسٹکس اور نجی شعبے کے تعاون کو بہتر بنانے کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ ڈی ایٹ قیادت کے ساتھ ملاقات میں رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور تجارت بڑھانے کے امکانات زیر بحث آئے، جبکہ قطری کاروباری حلقوں کے ساتھ گفتگو میں عملی سرمایہ کاری مواقع اور ادارہ جاتی رابطوں پر توجہ دی گئی۔
پاکستان حالیہ برسوں میں خلیجی ممالک سے براہ راست سرمایہ کاری حاصل کرنے اور تجارت کو روایتی اشیا سے آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوحہ کی ملاقاتیں اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں، تاہم سرکاری اعلامیے میں کسی مخصوص نئے سرمایہ کاری معاہدے، مالی حجم یا منصوبے کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے ان رابطوں کو سرمایہ کاری کی دعوت اور ممکنہ شراکت داری کی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ مکمل شدہ سرمایہ کاری سودے کے طور پر۔
وزارت تجارت کے مطابق پاکستانی فریق نے نجی شعبے کے درمیان مستقل رابطے، کاروباری وفود کے تبادلے اور قابل عمل منصوبوں کی نشاندہی پر زور دیا۔ آئندہ پیش رفت اس بات پر منحصر ہوگی کہ زیر بحث شعبوں میں سرمایہ کاروں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان کتنے منصوبے تجارتی اور مالی اعتبار سے قابل عمل صورت اختیار کرتے ہیں۔
