اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے برطانیہ کے وزیر مملکت برائے سلامتی ڈین جاروس سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور برطانیہ کے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق دونوں فریقوں نے سلامتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون، ہجرت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں روابط کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔

ملاقات میں R4+E4 فریم ورک کے تحت جاری تعاون بھی زیر بحث آیا۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے دوطرفہ معاملات کے ساتھ ساتھ مشترکہ دلچسپی کی علاقائی پیش رفت پر پاکستان اور برطانیہ کے مسلسل رابطے اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ اعلامیے میں کسی نئے معاہدے، مالی پیکیج یا مخصوص منصوبے کی منظوری کا ذکر نہیں کیا گیا، اس لیے ملاقات کو پالیسی رابطے اور موجودہ تعاون کو آگے بڑھانے کی سفارتی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات میں سلامتی اور قانون نافذ کرنے کے معاملات کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور نقل مکانی سے متعلق امور مستقل اہمیت رکھتے ہیں۔ تازہ ملاقات میں ان تمام شعبوں کو ایک ساتھ زیر بحث لانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں حکومتیں تعلقات کو صرف ایک موضوع تک محدود رکھنے کے بجائے وسیع تر ادارہ جاتی تعاون کے تناظر میں آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق دونوں جانب سے علاقائی اور بین الاقوامی حالات پر بھی آرا کا تبادلہ کیا گیا، تاہم ان موضوعات کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ اسی طرح R4+E4 فریم ورک کے تحت آئندہ اقدامات یا کسی اگلے اجلاس کی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔ دستیاب سرکاری معلومات کی بنیاد پر اہم پیش رفت یہی ہے کہ دونوں ملکوں نے موجودہ دوطرفہ تعاون کا جائزہ لینے کے بعد سلامتی، ہجرت، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت متعدد شعبوں میں اسے مزید مضبوط بنانے کی سیاسی آمادگی ظاہر کی ہے۔