راولپنڈی: چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تربیلا میں اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں انہیں خصوصی تربیت، آپریشنل تیاری اور مشن پر مبنی تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دورے کے دوران انہوں نے بدلتے ہوئے سکیورٹی خطرات اور نئی نوعیت کے چیلنجز کے مقابلے کے لیے مسلسل تربیت اور تیاری کی اہمیت پر زور دیا۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شہدا کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ایس ایس جی کے ان اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے فرائض کی انجام دہی کے دوران جانیں قربان کیں۔ انہیں یونٹ کی موجودہ تربیتی سرگرمیوں اور خصوصی آپریشنز سے متعلق صلاحیتوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔

فوجی ترجمان کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز نے جدید خصوصی سازوسامان کا مظاہرہ دیکھا، جبکہ ایس ایس جی اہلکاروں نے خصوصی کارروائیوں میں جنگی مہارت، تیزی اور درستگی سے متعلق عملی مظاہرہ بھی پیش کیا۔ بیان میں اس سازوسامان کی مخصوص تکنیکی تفصیلات یا کسی نئے نظام کی خریداری کا اعلان نہیں کیا گیا۔

افسران اور جوانوں سے گفتگو میں عاصم منیر نے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، بلند حوصلے اور فرائض سے وابستگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل اور معیاری تربیت، مقامی سطح پر دفاعی صلاحیت کی ترقی اور آپریشنل تیاری پر غیر متزلزل توجہ ضروری ہے تاکہ مسلح افواج ابھرتے ہوئے خطرات کے مقابلے میں اپنی برتری برقرار رکھ سکیں۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک کو دہشت گردی اور سرحدی سلامتی سمیت مختلف نوعیت کے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ گزشتہ ماہ عاصم منیر نے پشاور کور ہیڈکوارٹر کا بھی دورہ کیا تھا جہاں انہیں خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال، جاری انسداد دہشت گردی کارروائیوں اور سرحدی انتظام کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی تھی۔ تربیلا کے دورے میں آئی ایس پی آر نے کسی نئی فوجی کارروائی یا مخصوص خطرے کے خلاف فوری آپریشن کا اعلان نہیں کیا؛ بیان کا مرکزی نکتہ خصوصی دستوں کی تربیت، تیاری اور مقامی صلاحیت کو مضبوط رکھنے پر تھا۔

ایس ایس جی پاک فوج کی خصوصی کارروائیوں کے لیے تربیت یافتہ فورس ہے اور اس کی تیاری سے متعلق سرکاری بیانات عموماً انسداد دہشت گردی، پیچیدہ آپریشنل ماحول اور تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کے تناظر میں جاری کیے جاتے ہیں۔ موجودہ دورے میں بھی ادارہ جاتی تیاری اور پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھنے کو بنیادی ترجیح کے طور پر پیش کیا گیا۔