جنیوا: اقوام متحدہ کی کمیٹی اگینسٹ ٹارچر نے جنیوا میں پاکستان کی جانب سے تشدد اور غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کے خلاف بین الاقوامی کنونشن پر عملدرآمد کا جائزہ لیا ہے۔ ڈان کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی وفد نے ملکی قوانین، ادارہ جاتی اقدامات اور حراست میں افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات سے متعلق کمیٹی کے سوالات کا جواب دیا۔
کمیٹی اگینسٹ ٹارچر ان ریاستوں کی وقتاً فوقتاً جانچ کرتی ہے جو اقوام متحدہ کے کنونشن اگینسٹ ٹارچر کی فریق ہیں۔ اس عمل میں حکومت کی تحریری رپورٹ، اقوام متحدہ کے ماہرین کے سوالات اور بعض اوقات سول سوسائٹی یا دوسرے اداروں کی فراہم کردہ معلومات کو دیکھا جاتا ہے۔ جائزہ کسی فوجداری مقدمے یا عدالتی فیصلے کے مترادف نہیں بلکہ ریاست کی بین الاقوامی ذمہ داریوں پر نگرانی کا طریقہ ہے۔
پاکستانی وفد نے تشدد کو جرم قرار دینے کے قانونی فریم ورک اور حراستی نظام میں اصلاحات سے متعلق اقدامات بیان کیے۔ کمیٹی کے ماہرین نے اس بات پر توجہ دی کہ قانون میں موجود تحفظات عملی سطح پر کس طرح نافذ کیے جاتے ہیں، شکایات کی تحقیقات کیسے ہوتی ہیں اور اگر سرکاری اہلکاروں پر بدسلوکی یا تشدد کا الزام ہو تو احتساب کا طریقہ کیا ہے۔
پاکستان میں ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ پریوینشن اینڈ پنشمنٹ ایکٹ 2022 ایک اہم وفاقی قانون ہے، جس کا مقصد حراست میں تشدد اور موت سے متعلق جرائم کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرنا ہے۔ تاہم کسی قانون کا وجود اور اس کا مؤثر نفاذ الگ امور ہیں۔ اقوام متحدہ کی نگرانی میں عموماً تحقیقات کی آزادی، متاثرین کی رسائی، عدالتی نگرانی، طبی معائنہ اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی جیسے عملی پہلو بھی زیر بحث آتے ہیں۔
جنیوا کا موجودہ جائزہ ایک جاری بین الاقوامی نگرانی کے عمل کا حصہ ہے۔ کمیٹی کی حتمی مشاہدات اور سفارشات اس مرحلے کے بعد جاری کی جا سکتی ہیں، اس لیے اجلاس میں اٹھائے گئے سوالات کو حتمی نتیجہ یا پاکستان کے خلاف کسی ثابت شدہ خلاف ورزی کا عدالتی فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حتمی دستاویز سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین پاکستان سے کن مخصوص قانونی یا انتظامی اقدامات کی سفارش کرتے ہیں۔

