پاکستان میں ڈیجیٹل اور ورچوئل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری نظام کی تیاری کے سلسلے میں وزیر مملکت بلال بن ثاقب اور پاکستان میں امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل مالیاتی مارکیٹ، ضابطہ کاری اور ادارہ جاتی فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق بلال بن ثاقب نے امریکی سفارت کار کو پاکستان کی جانب سے جدید، مضبوط اور شفاف ریگولیٹری ڈھانچہ قائم کرنے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔
پاکستان میں کرپٹو کرنسی اور دیگر ورچوئل اثاثوں کے استعمال میں عوامی دلچسپی کے باوجود کئی برس تک ضابطہ کاری، لائسنسنگ، سرمایہ کار تحفظ، منی لانڈرنگ کی روک تھام اور ٹیکس کے معاملات واضح قانونی فریم ورک کے بغیر زیر بحث رہے ہیں۔ حکومت نے حالیہ عرصے میں اس شعبے کو باقاعدہ نگرانی کے دائرے میں لانے اور ڈیجیٹل اثاثہ خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے قواعد مرتب کرنے کی سمت اقدامات تیز کیے ہیں۔
ملاقات میں پیش رفت سے متعلق سرکاری مؤقف کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ پاکستان ایسی مارکیٹ بنانا چاہتا ہے جس میں جدت اور سرمایہ کاری کی گنجائش کے ساتھ شفافیت اور نگرانی بھی موجود ہو۔ کسی بھی نئے فریم ورک کی عملی اہمیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ لائسنس کس ادارے کے تحت جاری ہوں گے، صارفین کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے کیا تقاضے ہوں گے، مشکوک لین دین کی نگرانی کس طرح کی جائے گی اور بین الاقوامی مالیاتی قواعد کے ساتھ مطابقت کیسے قائم کی جائے گی۔
ڈیجیٹل اثاثوں کا شعبہ سرحد پار لین دین، سرمایہ کاری اور مالیاتی ٹیکنالوجی سے جڑا ہونے کے باعث بین الاقوامی تعاون کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ اسی تناظر میں امریکی ناظم الامور کے ساتھ گفتگو پاکستان کی ریگولیٹری پیش رفت سے متعلق سفارتی اور تکنیکی رابطے کا حصہ ہے۔ دستیاب رپورٹ میں کسی نئے دوطرفہ معاہدے، سرمایہ کاری کی رقم یا مخصوص امریکی تکنیکی معاونت کے حتمی اعلان کا ذکر نہیں، اس لیے ملاقات کو بنیادی طور پر پالیسی اور ریگولیٹری تبادلہ خیال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
پاکستانی حکام کے لیے اگلا اہم مرحلہ قواعد کو عملی شکل دینا، متعلقہ اداروں کے اختیارات واضح کرنا اور مارکیٹ شرکا کے لیے قابل نفاذ تقاضے متعین کرنا ہوگا۔ ریگولیٹری فریم ورک کی کامیابی کا اندازہ اس کے نفاذ، صارف تحفظ، مالیاتی جرائم کے خلاف نگرانی اور قانونی کاروباری سرگرمی کے لیے واضح راستہ فراہم کرنے سے ہوگا۔
