نیویارک: پاکستان نے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے لیے نئے بوئنگ طیاروں، موجودہ 777 بیڑے کے اسپیئر پارٹس، آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن اور ریکوڈک کان کنی منصوبے کے لیے مالی معاونت کے امکانات پر بات چیت کی ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے 81ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی ایکسِم بینک کے چیئرمین جان یووانووچ سے نیویارک میں ملاقات کی۔

وزیر خزانہ نے پی آئی اے کی جانب سے بوئنگ طیاروں، بالخصوص 787 ڈریم لائنرز میں دلچسپی کا ذکر کیا اور طیاروں و انجنوں کی خریداری کے لیے فنانسنگ پیکیج پر تعاون طلب کیا۔ انہوں نے گراؤنڈ کیے گئے بوئنگ 777 طیاروں کو دوبارہ سروس میں لانے کے لیے درکار اسپیئر پارٹس کی فراہمی اور مالی بندوبست کا معاملہ بھی اٹھایا۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ وسیع تر تعاون کے فریم ورک پر کام جاری رکھا جائے، تاہم ابتدائی طور پر قابلِ عمل اور مخصوص لین دین کو ترجیح دی جائے، جن میں نئے طیاروں کی پری ڈیلیوری ادائیگیوں کے لیے ممکنہ فنانسنگ بھی شامل ہے۔

ملاقات میں پاکستان کی موجودہ آئل ریفائنریز کی جدید کاری کے لیے امریکی ایکسِم بینک کی ممکنہ معاونت بھی زیر غور آئی۔ یہ گفتگو ایسے وقت ہوئی ہے جب حکومت نے مقامی ریفائنریوں کو یورو فائیو معیار کے ایندھن، زیادہ پیٹرول و ڈیزل پیداوار اور کم فرنس آئل کے لیے اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ امریکی مالیاتی ادارے کی شمولیت کی صورت میں سرمایہ کاری کے بعض حصوں کے لیے بیرونی فنانسنگ کے نئے ذرائع کھل سکتے ہیں، تاہم سرکاری بیان میں کسی حتمی قرض معاہدے یا رقم کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ریکوڈک کے بارے میں محمد اورنگزیب نے منصوبے کو پاکستان کی مستقبل کی برآمدات کے لیے اہم قرار دیا اور تاخیر سے ہونے والی معاشی لاگت کا ذکر کیا۔ وزارتِ خزانہ نے امریکی ایکسِم بینک کی اس منصوبے میں جاری دلچسپی کا خیر مقدم کیا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ادارہ اس سے پہلے ریکوڈک سے متعلق امریکی سامان و خدمات کی خریداری کے لیے 1.25 ارب ڈالر تک کی فنانسنگ منظور کر چکا ہے۔

موجودہ مذاکرات کو حتمی فنانسنگ ڈیل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ پی آئی اے کے طیاروں، ریفائنری اپ گریڈ اور ریکوڈک سے متعلق ہر مالی سہولت اپنی الگ تجارتی، قانونی اور منظوری کی شرائط سے مشروط ہوگی۔ تاہم ایک ہی ملاقات میں ہوا بازی، توانائی اور معدنیات کے تین بڑے شعبوں کو شامل کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت امریکی ترقیاتی و برآمدی مالیاتی اداروں کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو زیادہ عملی منصوبوں تک لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔