واشنگٹن: امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ٹیکنالوجیز کے تعاون کو زیادہ نمایاں مقام دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی دونوں ملکوں کے لیے باہمی فائدے پر مبنی نئی شراکت داری کے راستے کھول سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات واشنگٹن میں پاکستان-امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
فورم کا مقصد پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو امریکی پالیسی، کاروباری اور سرمایہ کاری حلقوں کے سامنے متعارف کرانا اور بین الاقوامی منڈی میں ان کی صلاحیت دکھانا تھا۔ سفیر کے مطابق پاکستانی کمپنیاں مصنوعی ذہانت سمیت متعدد جدید شعبوں میں عالمی معیار کی خدمات فراہم کرنے کی استعداد رکھتی ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے کاروبار سے کاروبار روابط، ممکنہ سرمایہ کاری اور تکنیکی شراکت داری کے مواقع بڑھانے کی کوشش کی گئی۔
پاکستان اپنی آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کی برآمدات میں اضافے کو زرمبادلہ کمانے اور نوجوان افرادی قوت کے لیے اعلیٰ مہارت والی ملازمتیں پیدا کرنے کا اہم ذریعہ سمجھتا ہے۔ امریکا پاکستانی سافٹ ویئر اور ٹیکنالوجی خدمات کے لیے بڑی منڈیوں میں شامل ہے، اس لیے امریکی کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور پاکستانی ٹیک اداروں کے درمیان براہ راست روابط میں اضافہ برآمدی مواقع اور مشترکہ منصوبوں کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔
تقریب میں مصنوعی ذہانت کو خاص اہمیت دی گئی، لیکن ٹیکنالوجی تعاون صرف اے آئی تک محدود نہیں۔ کلاؤڈ سروسز، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل کاروباری حل، فِن ٹیک، ڈیٹا سروسز اور ہنرمند افرادی قوت جیسے شعبے بھی دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے لیے تعاون کے امکانات رکھتے ہیں۔ ایسے روابط میں ڈیٹا تحفظ، سائبر سکیورٹی، برآمدی قواعد، ویزا اور سرمایہ کاری کے ضوابط جیسے عملی معاملات بھی اہم رہیں گے۔
سفیر کا انسداد دہشت گردی سے آگے آئی ٹی پر زیادہ توجہ دینے کا پیغام دوطرفہ تعلقات کی ممکنہ اقتصادی سمت کے بارے میں پالیسی مؤقف ہے؛ اسے کسی نئے سرکاری ٹیکنالوجی معاہدے یا امریکی سرمایہ کاری کی حتمی منظوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ فورم کا فوری نتیجہ پاکستانی کمپنیوں کی نمائش اور متعلقہ امریکی شراکت داروں سے روابط بڑھانا ہے۔ کسی مخصوص سرمایہ کاری، خریداری یا مشترکہ منصوبے کی حتمی حیثیت متعلقہ کمپنیوں اور اداروں کے آئندہ معاہدوں سے واضح ہوگی۔
پاکستان کے لیے اس نوعیت کے فورمز کی اہمیت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب حکومت آئی ٹی برآمدات میں تیز رفتار اضافہ اور عالمی ٹیکنالوجی ویلیو چین میں مقامی کمپنیوں کی شرکت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہو۔ اگر کاروباری روابط مستقل تجارتی معاہدوں میں تبدیل ہوتے ہیں تو اس سے برآمدی آمدن، سرمایہ کاری اور پاکستانی ٹیک افرادی قوت کے لیے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، تاہم ان نتائج کا انحصار بعد کی کاروباری پیش رفت پر ہوگا۔

