وفاقی حکومت نے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کرنے کی پرسنل بیگیج اسکیم ختم کردی ہے، جبکہ گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیموں کو سخت شرائط کے ساتھ برقرار رکھا گیا ہے۔ ڈان کی براہ راست دیکھی گئی رپورٹ کے مطابق وزیر تجارت جام کمال خان نے قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ اس تبدیلی کی منظوری دے چکی ہیں۔

وزارت تجارت کے تحریری جواب میں کہا گیا کہ پرسنل بیگیج اسکیم کو ذاتی سہولت کے بجائے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ برقرار رہنے والی دونوں اسکیموں کے تحت درآمد شدہ گاڑیوں کو اب وہ کم از کم حفاظتی، ماحولیاتی اور ضابطہ جاتی معیار پورے کرنا ہوں گے جو تجارتی طور پر درآمد ہونے والی استعمال شدہ گاڑیوں پر لاگو ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں ہر معیار کی تکنیکی فہرست شامل نہیں تھی۔

نئی شرائط کے مطابق گاڑی درآمد کرنے کا وقفہ دو سال سے بڑھا کر تین سال کردیا گیا ہے اور ان اسکیموں کے تحت لائی گئی گاڑی ایک سال تک منتقل نہیں کی جا سکے گی۔ بیرون ملک قیام کی کم از کم شرط بھی تین سال اور مجموعی طور پر کم از کم 850 دن بتائی گئی ہے۔ درخواست دہندگان کو حتمی کارروائی سے پہلے وزارت تجارت، کسٹمز اور متعلقہ اسکیم کی اصل باضابطہ دستاویز دیکھنی چاہیے۔

یہ شرط کہ گاڑی اسی ملک سے درآمد ہو جہاں بھیجنے والا رہتا ہے، اب صرف ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم پر لاگو ہوگی۔ وزارت کے مطابق تبدیلیوں سے پہلے وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل سمیت متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی گئی۔ خبر میں کسی فرد کی درخواست، کسٹم ڈیوٹی یا مخصوص ماڈل کی اہلیت کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

حکومت کا موقف ہے کہ نظرثانی کا مقصد حقیقی ذاتی ضرورت رکھنے والے سمندر پار پاکستانیوں کو سہولت دینا اور اسکیم کے تجارتی غلط استعمال کو روکنا ہے۔ یہ سرکاری جواز ہے؛ پالیسی کے بازار قیمتوں، درآمدی حجم یا مقامی صنعت پر ممکنہ اثرات کے حتمی اعداد موجودہ رپورٹ میں نہیں دیے گئے۔ ایسے اثرات بعد کے درآمدی ڈیٹا سے واضح ہوں گے۔

اردو ہیڈ لائنز اس خبر کو پرسنل بیگیج اسکیم کے خاتمے اور باقی دو اسکیموں کی معلوم نئی شرائط تک محدود رکھ رہا ہے۔ قواعد کے مکمل نوٹیفکیشن، کسٹمز طریقہ کار، اطلاق کی تاریخ یا کسی عبوری رعایت کے بارے میں نئی سرکاری وضاحت سامنے آئے تو اس کی الگ تصدیق ضروری ہوگی۔ درخواست گزار کسی خبر کو کسٹمز اجازت کا متبادل نہ سمجھیں۔