شام نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ بزنس کونسل قائم کرنے اور دمشق میں سرمایہ کاری فورم منعقد کرنے کی تجویز دی ہے۔ ڈان کے مطابق شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے یہ تجاویز پاکستان کے وزیر تجارت جام کمال خان سے ملاقات میں پیش کیں، جہاں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے راستوں پر گفتگو ہوئی۔
مجوزہ بزنس کونسل کا مقصد دونوں ملکوں کی کاروباری برادریوں کو براہ راست رابطے کا مستقل پلیٹ فارم دینا ہے۔ شامی وزیر نے رہائش، رئیل اسٹیٹ، توانائی، نقل و حمل، بندرگاہوں، زراعت، صنعت اور انسانی وسائل کو ممکنہ تعاون کے شعبے بتایا اور کہا کہ موجودہ تجارت دونوں ملکوں کی اصل صلاحیت کی نمائندگی نہیں کرتی۔
شام کی وزارت معیشت، جو تجارت اور صنعت کی نگرانی بھی کرتی ہے، کا وفد پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ عملی مواقع دیکھے جاسکیں۔ وزیر تجارت جام کمال نے تجویز دی کہ سرکاری تجارتی ادارے ترجیحی شعبے شناخت کرکے قابل عمل روڈ میپ بنائیں اور بالمشافہ ملاقاتوں سے پہلے کاروباری اداروں کے درمیان آن لائن رابطے کرائے جائیں۔
پاکستان نے دونوں ملکوں کے مشترکہ وزارتی کمیشن اور متعلقہ ورکنگ گروپس کو دوبارہ فعال کرنے کی تجویز بھی دی۔ چیمبرز آف کامرس کے موجودہ فریم ورک کے تحت باقاعدہ وفود، کاروباری تبادلے اور ادارہ جاتی رابطے بڑھانے پر زور دیا گیا تاکہ تجاویز صرف سیاسی بیانات تک محدود نہ رہیں۔
شامی وزیر خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی الگ ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم نے سیاست، دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور انسانی وسائل میں تعلقات بڑھانے اور دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست پروازیں بحال کرنے کی ضرورت بیان کی۔ پاکستان نے شام کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت دہرائی۔
مشترکہ بزنس کونسل اور سرمایہ کاری فورم اس مرحلے پر تجاویز ہیں؛ ان کی حتمی تاریخ، رکنیت، فنڈنگ یا منصوبوں کی منظوری کا اعلان نہیں ہوا۔ اردو ہیڈ لائنز انہیں مکمل شدہ تجارتی معاہدے یا سرمایہ کاری کی ضمانت کے طور پر پیش نہیں کر رہا۔ باضابطہ قیام، وفد کے دورے یا کسی مخصوص سرمایہ کاری منصوبے کی تصدیق پر اسی رپورٹ کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔




