کراچی: پاکستان کو اگست 2026 میں بیرون ملک مقیم کارکنوں کی جانب سے 3.66 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 16.5 فیصد زیادہ ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 9 ستمبر کو اگست کے ترسیلات زر کے اعداد و شمار جاری کیے، جبکہ وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بھی ان اعداد کو نمایاں کیا۔

جیو نیوز کے مطابق رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ، جولائی اور اگست، میں مجموعی ترسیلات زر 7.29 ارب ڈالر رہیں۔ یہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 14.7 فیصد اضافہ ہے۔ اگست کی ترسیلات جولائی کے مقابلے میں بھی 0.7 فیصد زیادہ رہیں، جس سے ماہانہ بنیاد پر معمولی مگر مثبت اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔

ملک وار تفصیل میں سعودی عرب سے سب سے زیادہ 873 ملین ڈالر موصول ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب سے آنے والی رقوم سالانہ بنیاد پر 19 فیصد بڑھیں۔ متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکا بھی پاکستان کے لیے ترسیلات زر کے بڑے ذرائع میں شامل رہے، جبکہ دیگر خلیجی ممالک سے آنے والی رقوم میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی کھاتے کے لیے اہم ذریعہ ہیں کیونکہ یہ گھریلو آمدنی کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کی دستیابی میں بھی حصہ ڈالتی ہیں۔ تاہم ایک ماہ کے مضبوط اعداد کو پورے مالی سال کے نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا؛ آئندہ مہینوں کی رفتار، روزگار کی صورتحال اور بیرون ملک پاکستانی کارکنوں کی آمدنی مجموعی سالانہ رجحان پر اثر انداز ہوگی۔

اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ نے 9 ستمبر کو اگست 2026 کی ورکرز ریمیٹنسز پریس ریلیز کو اپنی تازہ ترین اپ ڈیٹس میں شامل کیا۔ دستیاب اعداد کے مطابق ابتدائی دو ماہ میں ترسیلات کا سالانہ اضافہ دو ہندسوں میں برقرار ہے، جو پاکستان کے بیرونی مالی بہاؤ کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔