اسلام آباد/کراچی: قطر سے مائع قدرتی گیس لے جانے والا جہاز ال مروّنہ آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ گزر کر پاکستان کی جانب روانہ ہے، ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی نے توانائی کی سمندری رسد کے بارے میں خدشات بڑھا رکھے ہیں۔ جیو نیوز اور بزنس ریکارڈر کی رپورٹس کے مطابق جہاز پاکستان کے طویل مدتی حکومتی انتظام کے تحت قطری ایل این جی لے کر آ رہا ہے۔

جیو نیوز کے مطابق ال مروّنہ پر تقریباً 81,936 میٹرک ٹن ایل این جی موجود ہے۔ جہاز نے 7 ستمبر کو آبنائے ہرمز عبور کی اور اسے پورٹ قاسم پہنچ کر اینگرو ایل این جی ٹرمینل پر لنگر انداز ہونا ہے۔ بزنس ریکارڈر نے بلومبرگ کے شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے حوالے سے بتایا کہ ایک اور قطری ایل این جی جہاز بھی آنے والے دنوں میں اسی راستے سے پاکستان کی طرف بڑھنے کی توقع ہے۔

پاکستان کو حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث ایل این جی کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ستمبر کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے کارگو خریدنے کی ایک حالیہ کوشش میں کوئی پیشکش موصول نہ ہونے کے بعد ٹینڈر ایوارڈ نہیں کیا گیا۔ اس پس منظر میں طویل مدتی قطری معاہدے کے تحت کارگو کی آمد فوری رسد کے دباؤ کو کسی حد تک کم کر سکتی ہے۔

پٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس کارگو سے بجلی کے شعبے کو عارضی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ تاہم ایک یا دو کارگو کی آمد کو طویل مدتی رسد کے خطرات کے خاتمے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ آبنائے ہرمز میں کسی نئی رکاوٹ سے پاکستان کی ایل این جی درآمدات، بیمہ لاگت اور توانائی کی مجموعی قیمت دوبارہ متاثر ہو سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان اپنی ایل این جی ضروریات کے ایک اہم حصے کے لیے قطر کے طویل مدتی معاہدوں پر انحصار کرتا ہے۔ موجودہ جہاز کا گزرنا اس لحاظ سے اہم ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کی مرکزی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور حالیہ فوجی کشیدگی کے دوران یہاں جہاز رانی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پاکستان کے لیے اس کارگو کی اصل اہمیت فوری دستیابی اور مہنگی اسپاٹ خریداری کی ضرورت محدود کرنے میں ہے۔