بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق رسمی بینکاری اور مالی چینلز کے ذریعے آنے والی کارکنوں کی ترسیلات نے ملک کے زرمبادلہ کے بہاؤ میں اہم کردار برقرار رکھا ہے اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کے لیے ایک مستحکم ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔

پاکستان کو ترسیلات زر کا بڑا حصہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، امریکا اور دیگر خلیجی و یورپی ممالک میں مقیم پاکستانیوں سے موصول ہوتا ہے۔ یہ رقوم گھرانوں کے روزمرہ اخراجات، تعلیم، صحت، رہائش اور چھوٹی سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہوتی ہیں، جبکہ قومی سطح پر درآمدی ادائیگیوں اور کرنٹ اکاؤنٹ کے دباؤ کو کم کرنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔

ترسیلات میں اضافے کے کئی ممکنہ عوامل ہوتے ہیں، جن میں بیرون ملک روزگار، میزبان ممالک کی معاشی صورتحال، پاکستانی روپے کی شرح مبادلہ، بینکاری چینلز کی سہولت اور غیر رسمی ذرائع کے مقابلے میں رسمی نظام کی کشش شامل ہیں۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک نے گزشتہ برسوں میں رسمی ذرائع سے رقوم بھیجنے کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔

تاہم ترسیلات زر کو برآمدات یا براہ راست سرمایہ کاری کا متبادل نہیں سمجھا جاتا۔ یہ گھریلو آمدن اور بیرونی کھاتے کے لیے اہم سہارا ہیں، لیکن پائیدار معاشی ترقی کے لیے برآمدی صلاحیت، پیداواری سرمایہ کاری اور روزگار کے مقامی مواقع میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ بیرون ملک روزگار پر زیادہ انحصار ملکی افرادی قوت اور مہارتوں کے اخراج سے متعلق الگ پالیسی سوالات پیدا کرتا ہے۔

پہلی سہ ماہی کا اضافہ مثبت پیش رفت ہے، مگر پورے مالی سال کی حتمی سطح عالمی معاشی حالات، خلیجی خطے میں روزگار اور پاکستانی مالیاتی پالیسی سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہو سکتی ہے۔ آئندہ ماہانہ اور سہ ماہی سرکاری اعداد و شمار سے معلوم ہو گا کہ ترسیلات کی موجودہ رفتار کتنی پائیدار رہتی ہے۔