
پاکستان کو ترسیلات زر میں مالی سال کی ابتدائی مدت کے دوران مضبوط اضافہ
بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر نے مالی سال 2026-27 کی ابتدائی مدت میں مضبوط رفتار برقرار رکھی، جس سے زرمبادلہ کی آمد اور بیرونی کھاتے کو سہارا ملا ہے۔
22 اکتوبر، 2026رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026‑27 کی ابتدائی مدت/پہلی سہ ماہی میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی گئی ترسیلات زر میں مضبوط اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس نے ملک کے زرمبادلہ کے بہاؤ اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دیا۔ بڑی ترسیلات سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، امریکا اور دیگر خلیجی و مغربی ممالک سے موصول ہوئیں۔ باضابطہ بینکنگ، ڈیجیٹل ترسیلی سہولیات، شرحِ مبادلہ کے نسبتی استحکام، بینکوں و ایکسچینج کمپنیوں کی نگرانی اور حکومتی ترغیبات اس میں کردار رکھ سکتی ہیں، مگر یہ رجحان میزبان ممالک کی روزگار منڈی، تیل کی قیمتوں، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی تعداد اور رسمی و غیر رسمی شرحِ مبادلہ کے فرق سے بھی متاثر ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترسیلات بیرونی مالی دباؤ کم کرنے اور گھریلو آمدنی کے لیے اہم ہیں، مگر طویل مدتی بیرونی توازن کے لیے برآمدات، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ضروری ہے؛ آئندہ ماہانہ اور سہ ماہی سرکاری اعداد و شمار رفتار کی پائیداری واضح کریں گے۔

بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر نے مالی سال 2026-27 کی ابتدائی مدت میں مضبوط رفتار برقرار رکھی، جس سے زرمبادلہ کی آمد اور بیرونی کھاتے کو سہارا ملا ہے۔
22 اکتوبر، 2026
مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں بیرون ملک پاکستانی کارکنوں کی ترسیلات زر میں اضافہ رپورٹ ہوا، جس سے زرمبادلہ کی آمد اور بیرونی کھاتے کو سہارا ملا۔
22 اکتوبر، 2026