وزیراعظم دفتر نے بتایا ہے کہ صومالیہ کے ساحل کے قریب ہائی جیک کیے گئے آئل ٹینکر کی بازیابی کی کارروائی میں جاں بحق ہونے والے تین پاکستانی ملاحوں کی میتیں وطن واپس لانے کے انتظامات جاری ہیں۔ سرکاری بیان کے مطابق میتیں ادیس ابابا پہنچ چکی ہیں اور ایتھوپین ایئرلائنز کے ذریعے انہیں کراچی منتقل کرنے کے لیے ضروری سفری اور انتظامی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔
یہ واقعہ پالاؤ کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 سے متعلق ہے، جسے صومالیہ کے نیم خودمختار خطے پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے ایک کارروائی کے بعد بازیاب کرانے کا اعلان کیا تھا۔ حکام کے مطابق جہاز پر 19 افراد پر مشتمل عملہ موجود تھا، جن میں 10 پاکستانی شامل تھے۔ کارروائی کے دوران تین پاکستانی جان سے گئے جبکہ دیگر عملے کے ارکان کی صورتحال سے متعلق پاکستانی حکام نے مرحلہ وار معلومات جاری کیں۔
وزیراعظم دفتر کے تازہ بیان کے مطابق جاں بحق پاکستانیوں کی میتوں کی منتقلی کے لیے سفارتی اور فضائی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا تھا کہ چار پاکستانی عملے کے ارکان کی وطن واپسی کا بندوبست کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض دیگر ارکان کپتان کے ساتھ جہاز پر موجود رہے۔ حکومت نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے مالی امدادی پیکج کا بھی اعلان کیا تھا۔
اس واقعے میں ہلاکتوں اور ٹینکر کی بازیابی سے متعلق بنیادی معلومات پنٹ لینڈ میری ٹائم پولیس اور پاکستانی حکام کے بیانات پر مبنی ہیں۔ قزاقی اور بحری سکیورٹی سے متعلق ایسے واقعات میں مختلف مرحلوں پر معلومات تبدیل ہو سکتی ہیں، اس لیے جاں بحق افراد کی منتقلی اور باقی عملے کی واپسی کے بارے میں سرکاری تصدیق کو بنیادی حیثیت دی جا رہی ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق اب فوری ترجیح تینوں میتوں کو کراچی پہنچانا اور اہل خانہ کے حوالے کرنا ہے۔ ادیس ابابا میں ضروری انتظامات مکمل ہونے کے بعد پرواز کا حتمی شیڈول طے کیا جائے گا۔ واقعے نے ایک بار پھر بحرِ ہند اور صومالی ساحل کے قریب تجارتی جہاز رانی کو درپیش قزاقی اور سکیورٹی خطرات کو نمایاں کیا ہے۔
