لاہور پولیس نے آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں تین مشتبہ افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ واقعہ ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے فلیٹ میں پیش آنے کا الزام ہے۔ مقدمہ زیر تفتیش ہے اور عدالت میں الزامات کا حتمی تعین ہونا باقی ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کاروباری مقصد کے لیے ستمبر کے آخری حصے میں پاکستان آئی تھیں۔ خاتون نے مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے بیان میں الزام لگایا کہ انہیں شراب پلانے کے بعد تین مردوں نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس بیان اور پولیس کی تفتیش کی بنیاد پر کارروائی آگے بڑھائی گئی۔ چونکہ معاملہ فوجداری عدالتی عمل میں ہے، اس لیے گرفتار افراد کو جرم ثابت ہونے تک ملزم ہی سمجھا جائے گا۔
اس مقدمے میں ایک خاتون ملزمہ کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ تفتیش کے لیے اس کی مزید جسمانی تحویل درکار نہیں، جس کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود نے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے اور 17 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالتی ریمانڈ سزا یا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں بلکہ جاری قانونی کارروائی کا حصہ ہے۔
اس سے قبل پولیس نے مقدمہ درج کرنے، بعض مشتبہ افراد کو حراست میں لینے اور شواہد جمع کرنے کی کارروائی کی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ بھی تفتیش کا حصہ بنا۔ تازہ پیش رفت میں پولیس نے تین مشتبہ افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے، تاہم مقدمے کی مکمل چالان، فرانزک نتائج اور عدالتی فیصلے کے بغیر واقعے کے تمام پہلوؤں کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
پولیس کی ذمہ داری ہے کہ شواہد کو قانونی معیار کے مطابق محفوظ کرے اور متاثرہ خاتون کی رازداری و تحفظ یقینی بنائے، جبکہ ملزمان کو بھی منصفانہ ٹرائل کا حق حاصل ہے۔ آئندہ سماعتوں اور تفتیشی رپورٹ سے یہ واضح ہوگا کہ استغاثہ کن الزامات اور شواہد کے ساتھ مقدمہ آگے بڑھاتا ہے۔
