وفاقی حکومت نے اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں پاکستان رینجرز (پنجاب) کی تعیناتی کی مدت 15 اکتوبر 2026 تک بڑھا دی ہے۔ یہ اقدام پاکستان تحریک انصاف کے متوقع لانگ مارچ اور اس سے متعلق سکیورٹی خدشات کے دوران پولیس اور سول انتظامیہ کو امن و امان برقرار رکھنے میں معاونت فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے اس سے قبل 24 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت اور پنجاب کے متعدد اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی کی منظوری دی تھی۔ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور حکومت پنجاب کی درخواستوں پر راولپنڈی، لاہور، اٹک، جہلم اور میانوالی سمیت مختلف مقامات پر اہلکار تعینات کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تازہ فیصلے کے نتیجے میں یہ انتظام اب 15 اکتوبر تک جاری رہے گا۔
وزارت داخلہ کی منظوری کے تحت وفاقی حکومت نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اور پنجاب کے متعلقہ اضلاع میں ضرورت کے مطابق پاکستان رینجرز (پنجاب) کے دستے تعینات کرنے کی اجازت دی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تعیناتی پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959 کی دفعات 7(بی) اور 10، جبکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات 4 اور 5 کے تحت کی گئی ہے۔ اہلکاروں کو ان قوانین اور متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے دیے گئے اختیارات کے مطابق فرائض انجام دینے ہوں گے۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ تعینات اہلکار اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی خطرے یا پرتشدد سرگرمی کا سامنا ہونے کی صورت میں نافذ قواعد و ضوابط کے مطابق دفاعی ردعمل دے سکتے ہیں۔ اس شق کا مقصد رینجرز کی معاون سکیورٹی ذمہ داریوں کی قانونی حدود واضح کرنا ہے، جبکہ بنیادی امن و امان کی ذمہ داری پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ مربوط انداز میں ادا کی جائے گی۔
رینجرز کی مدت میں توسیع ایسے وقت کی گئی ہے جب وفاقی دارالحکومت میں سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی مارچ کے باعث سکیورٹی انتظامات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات بھی جاری رہے ہیں، تاہم سیاسی اختلافات مکمل طور پر حل نہیں ہوئے۔ اس پس منظر میں حکام نے دارالحکومت اور پنجاب کے حساس اضلاع میں اضافی نفری برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ نے صرف 4 اکتوبر کے فوری احتجاجی مرحلے تک محدود انتظام کے بجائے 15 اکتوبر تک اضافی سکیورٹی معاونت برقرار رکھنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ صورتحال میں تبدیلی کی صورت میں متعلقہ وفاقی اور صوبائی ادارے قانون کے مطابق تعیناتی اور عملی ذمہ داریوں کا دوبارہ جائزہ لے سکتے ہیں۔
