وزیراعظم آفس نے کہا ہے کہ صومالیہ کے ساحل کے قریب ہائی جیک کیے گئے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے تین پاکستانی ملاحوں کی میتیں ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا پہنچ گئی ہیں، جہاں سے انہیں پاکستان واپس لانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
صومالیہ کے نیم خودمختار خطے پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے رواں ہفتے بتایا تھا کہ اس نے پلاؤ کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو بازیاب کرایا۔ جہاز پر مجموعی طور پر 19 افراد کا عملہ موجود تھا، جن میں 10 پاکستانی شامل تھے۔ بازیابی سے متعلق کارروائی کے دوران تین پاکستانی جان سے گئے تھے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق پاکستانی حکام میتوں کی جلد وطن واپسی کے لیے ایتھوپیا میں متعلقہ اداروں اور ایئرلائن سے رابطے میں ہیں۔ ایتھوپین ایئرلائنز ضروری انتظامات اور کلیئرنس کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ میتوں کو ادیس ابابا سے کراچی منتقل کیا جا سکے۔ حتمی پرواز اور پاکستان پہنچنے کے وقت سے متعلق تفصیل انتظامات مکمل ہونے کے بعد واضح ہوگی۔
اس واقعے میں متاثر ہونے والے پاکستانی عملے کے دیگر ارکان کی واپسی کے لیے بھی دفتر خارجہ اور خطے میں پاکستانی سفارتی مشنز نے رابطے کیے ہیں۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق چار پاکستانی عملہ ارکان — یاسر خان، عقیل خان، امین بن شمس اور عثمان غنی — کو محفوظ طور پر نکالا گیا اور ان کی کراچی واپسی کا انتظام کیا گیا۔
تین دیگر پاکستانی عملہ ارکان، عمران علی، یاسین محمد اور سید یوسف حسین، کپتان کے ساتھ جہاز پر موجود رہے تھے۔ پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ ان کی محفوظ واپسی کے لیے دوست ممالک اور متعلقہ حکام سے رابطہ جاری ہے۔ یہ صورتحال ایک پیچیدہ سمندری سکیورٹی واقعے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں عملے کی حفاظت، جہاز کی بازیابی اور مختلف ممالک کے درمیان قونصلر رابطے بیک وقت درکار ہوئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ہلاک پاکستانیوں کے خاندانوں کے لیے مالی امداد اور دیگر معاونت کا بھی اعلان کیا ہے۔ حکومت کی توجہ اس مرحلے پر میتوں کی باعزت اور جلد وطن واپسی، زندہ بچ جانے والے عملے کی محفوظ واپسی اور متاثرہ خاندانوں سے رابطے پر مرکوز ہے۔
ابتدائی اطلاعات میں واقعے اور بازیابی کی کارروائی کی تفصیلات مختلف سرکاری اور میڈیا ذرائع کے ذریعے سامنے آئی ہیں۔ ہلاکتوں اور عملے کی نقل و حرکت سے متعلق اس رپورٹ میں وزیراعظم آفس، دفتر خارجہ اور معتبر پاکستانی خبر رساں اداروں کی تصدیق شدہ معلومات کو بنیاد بنایا گیا ہے، جبکہ صومالیہ میں کارروائی کی تمام عملی تفصیلات آزادانہ طور پر دستیاب نہیں ہیں۔
