لاہور: پنجاب ایگریکلچر مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی (پامرا) نے صوبے کی زرعی منڈیوں کو جدید بنانے کے پروگرام کے تحت کاہنہ کاچھا، ملتان اور فیصل آباد میں ’منڈی مارٹ‘ منصوبے کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ سیکریٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈاکٹر کرن خورشید کے مطابق منصوبے کا مقصد کسانوں، تاجروں اور صارفین کے لیے منڈیوں میں بہتر سہولتیں اور زیادہ منظم کاروباری ماحول فراہم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق کاہنہ کاچھا مارکیٹ کے پہلے مرحلے میں اہل امیدواروں کو پلاٹس مختص کرنے کے لیے قرعہ اندازی 10 ستمبر 2026 کو کی جائے گی۔ اس مرحلے کے ذریعے کاروباری برادری کو نئی مارکیٹ میں جگہ فراہم کرنے کا عمل آگے بڑھے گا۔ ابھی دستیاب معلومات میں پلاٹس کی مجموعی تعداد، قیمت یا تمام الاٹمنٹ شرائط کی مکمل تفصیل بیان نہیں کی گئی، اس لیے ان نکات پر حتمی معلومات متعلقہ سرکاری قواعد سے ہی متعین ہوں گی۔
پامرا نے لاہور کی بادامی باغ فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ میں بھی ترقیاتی اور خوبصورتی کے کام جاری رکھنے کی اطلاع دی ہے۔ وہاں جدید ’پھڑی شیڈ‘ تعمیر کیا جا رہا ہے جس میں 400 سے زیادہ اسٹالز کی گنجائش بتائی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ سہولت ’فسیلیٹیشن رینٹل ماڈل‘ کے تحت تیار کی جا رہی ہے اور اس کا خاص ہدف چھوٹے تاجروں کو منظم جگہ فراہم کرنا ہے۔
پاکپتن اور ساہیوال کی پھل و سبزی منڈیوں میں ترقیاتی کام، دکانوں کی نیلامی اور شیڈز کی تعمیر مکمل ہونے کی بھی اطلاع دی گئی۔ پامرا کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کمیٹیوں نے ای ایف او ای ایس لیول تھری حاصل کیا ہے، جسے اتھارٹی انتظامی شفافیت اور نظام کی کارکردگی میں بہتری کی علامت قرار دیتی ہے۔ یہ درجہ بندی اتھارٹی کا بیان کردہ انتظامی سنگ میل ہے اور اس کے عملی اثرات کا جائزہ منڈیوں میں خدمات اور کاروباری تجربے سے ہوگا۔
زرعی منڈیوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی، غیر رسمی کاروباری انتظام، قیمتوں کی ترسیل اور چھوٹے تاجروں کے لیے مناسب جگہ جیسے مسائل طویل عرصے سے اصلاحات کا موضوع رہے ہیں۔ منڈی مارٹ منصوبہ اسی وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ جدید انفراسٹرکچر اور بہتر نگرانی سے کسان سے صارف تک زرعی پیداوار کی تجارت زیادہ منظم ہو سکتی ہے۔
منصوبے کی کامیابی کا حتمی اندازہ اس بات سے ہوگا کہ نئی سہولتوں سے کسانوں اور چھوٹے تاجروں کی لاگت، رسائی، شفاف الاٹمنٹ اور صارفین کو ملنے والی خدمات میں کیا قابل پیمائش تبدیلی آتی ہے۔ فی الحال تین شہروں میں منصوبے کا آغاز اور کاہنہ میں 10 ستمبر کی قرعہ اندازی اس پروگرام کے اگلے عملی مراحل ہیں۔




