پاناما سٹی: وسطی امریکی ملک پاناما نے جمعہ 9 اکتوبر 2026 کو آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے بعد ہفتے کو ہنگامی حالت نافذ کر دی۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پہلے جھٹکے کی شدت 7.7 اور دوسرے کی 6.6 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلوں کے بعد سو سے زیادہ آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے، جن میں بعض کی شدت پانچ سے زیادہ تھی۔
پاناما کے صدارتی وزیر خوان کارلوس اوریاک نے دارالحکومت میں نیوز کانفرنس کے دوران ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا۔ حکام کے مطابق ملک کے دسوں صوبوں اور دو مقامی باشندوں کے علاقوں میں مختلف نوعیت کے نقصانات رپورٹ ہوئے۔ نیشنل سول پروٹیکشن سسٹم کی نائب سربراہ مالیتزی ریویرا نے بتایا کہ 27 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم ہفتے تک زلزلوں سے کسی موت کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
حکام کے ابتدائی تخمینے کے مطابق تقریباً 420 مکانات اور اتنی ہی تعداد میں سرکاری اسکول متاثر ہوئے۔ سات ہوٹلوں، کم از کم 13 گرجا گھروں اور نو پلوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔ زیادہ متاثرہ علاقوں میں ویراگواس، ہیریرا، کوکلے اور لاس سانتوس کے وسطی صوبے شامل ہیں۔ تاریخی بستی لا ویلا دے لاس سانتوس میں بعض عمارتیں اور ایک قدیم گرجا گھر منہدم ہوئے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پہلے زلزلے کا مرکز صوبہ ہیریرا میں پیتالوزا اریبا کے قریب اور زمین میں تقریباً دس کلومیٹر کی گہرائی پر تھا۔ جھٹکے پڑوسی ملک کولمبیا میں بھی محسوس کیے گئے۔ سڑکیں ٹوٹنے اور پہاڑی ملبہ گرنے سے کچھ آبادیوں تک رسائی متاثر ہوئی ہے، جس سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
لاس سانتوس کے ساحلی جزیرے اسلا کانیا سے بلند سمندری لہروں اور پانی کی سطح میں اضافے کے خدشے کے باعث تقریباً 300 افراد کو نکالا گیا۔ پاناما سٹی میں پانی صاف کرنے کے ایک پلانٹ کی کارکردگی ہفتے کو تقریباً 20 فیصد رہ گئی، جبکہ متعدد اسپتالوں میں عارضی سہولتیں قائم کی گئیں۔
دارالحکومت کا توکومین بین الاقوامی ہوائی اڈا پہلے زلزلے کے بعد کچھ وقت کے لیے بند ہوا اور پھر دوبارہ کھل گیا، لیکن پروازوں کی منسوخی اور تاخیر سے متعدد مسافر متاثر ہوئے۔ اس کے برعکس عالمی تجارت کے لیے اہم پاناما کینال کے حکام نے بتایا کہ وہاں جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے اور ممکنہ نقصان جانچنے کے لیے تکنیکی معائنے کیے جا رہے ہیں۔
حکومت کے اعلان اور ابتدائی جائزوں کے باوجود عمارتوں اور انفراسٹرکچر کے نقصان کا مکمل تخمینہ سامنے آنا باقی ہے۔ زخمیوں اور متاثرہ علاقوں کے اعداد بھی امدادی ٹیموں کی مزید رسائی اور جانچ کے بعد بدل سکتے ہیں۔
