رام اللہ: فلسطینی صدر محمود عباس نے طویل عرصے سے زیر انتظار پارلیمانی انتخابات ملتوی کرکے آئندہ سال 11 ستمبر کو صدارتی انتخابات کے ساتھ کرانے کا اعلان کیا ہے۔ فلسطینی سرکاری خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اس فیصلے کے لیے ہفتہ 10 اکتوبر کو صدارتی فرمان جاری کیا گیا۔ اس اعلان سے فلسطینی علاقوں میں نمائندہ اداروں کے انتخابات کے مستقبل اور ان کے انعقاد کی شرائط پر بحث ایک بار پھر نمایاں ہوئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق قانون ساز کونسل کے انتخابات پہلے 28 نومبر 2026 کو ہونا تھے، جبکہ صدارتی انتخاب اگلے سال کے اوائل میں متوقع تھا۔ نئے فرمان کے تحت دونوں انتخابات ایک ہی تاریخ کو منعقد کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ فلسطینی صدارتی دفتر نے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کو آزادانہ، منصفانہ اور تمام متعلقہ علاقوں کی شمولیت کے ساتھ منعقد کرنے کے لیے سیاسی، سلامتی اور زمینی حالات موزوں ہونا ضروری ہیں۔
فلسطینی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی اقدامات اور پابندیوں کے باعث پہلے سے مقررہ تاریخ پر انتخاب ممکن نہیں رہتا۔ فلسطینی حکام نے اس ہفتے الزام لگایا تھا کہ اسرائیل نے انتخابی عملے کو مشرقی یروشلم اور غزہ جانے کی اجازت نہیں دی، جس سے تیاری متاثر ہوئی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے متوقع التوا پر فلسطینی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کے مؤقف پر سوال اٹھائے۔ دونوں فریقوں کے بیانات الگ سیاسی مؤقف ہیں، جنہیں حتمی غیرجانبدارانہ تحقیق کا نتیجہ سمجھنا مناسب نہیں ہوگا۔
فلسطینی قانون ساز کونسل کے آخری انتخابات 2006 میں منعقد ہوئے تھے۔ اس وقت حماس نے فتح حاصل کی تھی، جس کے بعد فتح اور حماس کے درمیان شدید سیاسی اختلافات اور تصادم سامنے آئے۔ بعد میں غزہ میں حماس اور مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے الگ انتظامی ڈھانچے قائم ہونے سے سیاسی تقسیم مزید گہری ہوئی۔ قانون ساز کونسل 2007 سے باقاعدہ اجلاس نہیں کر سکی۔ اس تاریخی پس منظر میں نیا انتخابی شیڈول ادارہ جاتی نمائندگی کی بحالی کے سوال سے براہ راست متعلق ہے۔
محمود عباس آخری مرتبہ 2005 کے صدارتی انتخاب میں کامیاب ہوئے تھے۔ ان کی مقررہ مدت 2009 میں ختم ہونا تھی، تاہم بعد کے برسوں میں نئے صدارتی انتخابات نہیں ہوئے اور وہ صدارتی احکامات کے ذریعے انتظام چلاتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی شراکت دار، جن میں یورپی یونین بھی شامل ہے، فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات اور انتخابی عمل کی بحالی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
نیا فرمان انتخابات کی تاریخ طے کرتا ہے، مگر عملاً پولنگ کا انعقاد سیاسی اور انتظامی حالات سے مشروط رہے گا۔ فی الحال 11 ستمبر 2027 کو انتخاب کے انعقاد کا اعلان ہوا ہے؛ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تمام متعلقہ فریق انتخابی انتظامات پر متفق ہو چکے ہیں یا موجودہ رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں۔
