ادیس ابابا: ایتھوپیا کے شمالی سرحدی شہر ادیگرات میں ملکی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیا کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہفتہ دس اکتوبر کو شہر کے تین رہائشیوں نے بتایا کہ انہوں نے فوجی اہلکار اور گاڑیاں شہر میں دیکھیں۔ یہ اطلاع ایتھوپیا اور پڑوسی ملک اریٹیریا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔
رائٹرز نے واضح کیا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ ادیگرات کا مکمل کنٹرول ایتھوپیا کی فوج کے پاس ہے۔ شہر اریٹیریا کی سرحد سے تقریباً تیس کلومیٹر دور واقع ہے اور حالیہ دنوں میں اس کے اطراف دھماکوں اور ممکنہ ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ ایتھوپیا کے عسکری حکام اور مقامی انتظامیہ سے فوری طور پر مؤقف حاصل نہیں ہوسکا۔
ایتھوپیا نے اس ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں الزام لگایا کہ اریٹیریا کے فوجی اس کے شمالی علاقے تیگرائے میں ساٹھ کلومیٹر تک اندر آئے ہیں۔ ادیس ابابا نے کہا کہ غیر ملکی فوج کی موجودگی کے پیش نظر وہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ دوسری جانب اریٹیریا نے دراندازی کے الزام کو مسترد کیا اور کہا کہ اسے جارحیت کے لیے جواز پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ فریقین کے متضاد دعوے ہیں، جن کی مکمل آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔
امریکا میں قائم تنازعات پر نظر رکھنے والے ادارے اے سی ایل ای ڈی کے مطابق ادیگرات کے قرب و جوار میں ایتھوپیا کے مبینہ ڈرون حملوں کے بعد اریٹیریا سے منسوب فورسز نے بعض مقامات سے پسپائی اختیار کی۔ مقامی رہائشیوں نے مختلف اوقات میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی بات کی۔ تاہم کسی بھی مخصوص حملے کی ذمہ داری اور تمام فوجی نقل و حرکت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
کشیدگی کی ایک اہم وجہ ایتھوپیا کی سمندر تک رسائی کا مسئلہ بھی ہے۔ اریٹیریا نے 1993 میں آزادی حاصل کی تو ایتھوپیا براہ راست ساحلی راستے سے محروم ہوگیا۔ ایتھوپیا کی حکومت سمندری رسائی کو اہم قومی ضرورت قرار دیتی ہے، مگر اس کا مؤقف ہے کہ مقصد مذاکرات سے حاصل کیا جائے گا۔ اریٹیریا اسے اپنی خودمختاری سے متعلق خدشات کے تناظر میں دیکھتا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان 2018 میں امن معاہدہ ہوا تھا، لیکن تیگرائے کی 2020 سے 2022 تک جاری جنگ کے اختتامی مرحلے کے بعد تعلقات پھر خراب ہوئے۔ حالیہ جھڑپوں نے وسیع علاقائی تصادم کے امکانات پر تشویش بڑھا دی ہے۔ ادیگرات میں صورتحال کے بارے میں آئندہ سرکاری بیانات اور آزادانہ تصدیق زیادہ واضح تصویر فراہم کرسکیں گے۔
