واشنگٹن: پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے کردار کو زیادہ مؤثر بنانے اور اس کی قراردادوں پر عمل درآمد جانچنے کے لیے خصوصی طریقہ کار قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ڈان کی 10 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی مندوب فرسٹ سیکرٹری انصار شاہ نے جمعے کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ عالمی ادارے کی افادیت بڑھانے کے لیے محض طریقہ کار بدلنے کے بجائے سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی تجویز کے مطابق جنرل اسمبلی کو بین الاقوامی امن اور سلامتی سے متعلق امور پر اس وقت زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی گنجائش ملنی چاہیے جب سلامتی کونسل اختلافات یا ویٹو کے باعث مؤثر کارروائی نہیں کر پاتی۔ یہ تجویز سلامتی کونسل کی جگہ لینے کے بارے میں نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور کے اندر رہتے ہوئے جنرل اسمبلی کی موجودہ ذمہ داریوں کو بہتر طور پر بروئے کار لانے کے بارے میں ہے۔
جنرل اسمبلی میں اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک کی نمائندگی ہوتی ہے۔ سلامتی کونسل میں بڑی طاقتوں کے اختلافات کی وجہ سے متعدد تنازعات پر مشترکہ ردعمل مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے جنرل اسمبلی کے کردار کے بارے میں بحث کو عالمی سفارت کاری میں اہمیت حاصل ہے۔ پاکستانی مندوب نے اس تناظر میں قراردادوں کے بعد عملی پیش رفت کی منظم جانچ کی ضرورت پر زور دیا۔
تجویز کردہ خصوصی نگرانی کے نظام کے ذریعے ممالک یہ دیکھ سکیں گے کہ جنرل اسمبلی کی منظور کردہ قراردادوں پر عمل درآمد کہاں تک ہوا ہے اور کن معاملات میں پیش رفت رکی ہوئی ہے۔ پاکستانی مؤقف میں اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ اور سلامتی کونسل کی جانب سے جنرل اسمبلی کو باقاعدہ اور تفصیلی رپورٹیں فراہم کرنے کی ضرورت بھی شامل تھی۔ ان اقدامات کا مقصد فیصلوں کو محض اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے نتائج پر توجہ بڑھانا بتایا گیا۔
پاکستان نے فلسطین کے حق خود ارادیت اور کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ان مسائل سے متعلق عالمی ادارے کی سابقہ قراردادوں پر عمل درآمد کا سوال اب بھی موجود ہے۔ مندوب نے اس کے ساتھ تنازعات کے پُرامن حل، ثالثی اور جنرل اسمبلی کے ایجنڈے کو زیادہ بامقصد بنانے کی حمایت کی۔
یہ تجاویز فی الحال پاکستانی سفارتی مؤقف کی صورت میں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں کسی نئے عالمی نگرانی کے ادارے کی تشکیل یا ان تجاویز کی جنرل اسمبلی سے باضابطہ منظوری کی اطلاع نہیں دی گئی۔ مستقبل میں اگر رکن ممالک ان تجاویز پر اتفاق کرتے ہیں تو ان کے قواعد اور اختیارات الگ سے طے کرنا ہوں گے۔ اس وقت اصل خبر پاکستانی مندوب کی جانب سے پیش کردہ اصلاحاتی نکات اور عمل درآمد کی نگرانی کا مطالبہ ہے۔
