امریکا نے تائیوان کے مشرقی ساحل کے قریب چین کی بحری سرگرمیوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے بیجنگ سے دباؤ کم کرنے اور مکالمے کی راہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی 10 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کا بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا جن میں اگست کے دوران علاقے میں ایک ایسی چینی کشتی کی نشاندہی کی گئی جسے بحری ملیشیا سے وابستہ بتایا گیا۔ یہ شناخت رپورٹ میں بیان کردہ شواہد اور متعلقہ دعووں پر مبنی ہے، اس لیے اسے تمام فریقوں کی متفقہ تصدیق نہیں سمجھنا چاہیے۔
روئٹرز کے مطابق جون کے بعد سے چین نے تائیوان کے مشرق میں ساحلی محافظوں کے گشت سمیت اپنی موجودگی بڑھائی ہے۔ تائیوان کے حکام کو خدشہ ہے کہ فوجی، نیم فوجی اور غیر فوجی کشتیوں کی بیک وقت موجودگی ایک ممکنہ بحری ناکہ بندی کی مشق کا حصہ ہوسکتی ہے۔ یہ تائیوان کے حکام کا اندازہ ہے، کسی طے شدہ چینی فوجی منصوبے کی آزادانہ تصدیق نہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ان سرگرمیوں کو خطے کا استحکام متاثر کرنے والا قرار دیا اور کہا کہ چین کے اقدامات کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں۔ واشنگٹن نے بیجنگ پر زور دیا کہ وہ تائیوان کے منتخب حکام کے ساتھ بامعنی بات چیت کرے۔ رپورٹ کے وقت چینی وزارت خارجہ نے روئٹرز کی تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا تھا۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ تائیوان کی حکومت بیجنگ کے اس دعوے کو مسترد کرتی ہے۔
تائیوان کے مشرقی سمندری راستوں کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ تائی پے انہیں کسی ممکنہ تنازع یا ناکہ بندی کی صورت میں بیرونی رسد کے لیے حساس سمجھتا ہے۔ تائیوان کے ساحلی محافظوں نے متعلقہ کشتی اور اس کے ساتھ موجود دوسرے جہازوں کے حوالے سے کہا کہ ان کی سرگرمیاں مخصوص ممنوعہ پانیوں سے باہر ہوئی تھیں۔ یہ بیان مقام کے بارے میں اہم وضاحت دیتا ہے اور اسے کسی خلاف ورزی کے باضابطہ ثبوت سے الگ رکھنا چاہیے۔
روئٹرز کے مطابق جون میں امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی پہلے بھی تائیوان کے مشرق میں چینی سرگرمیوں پر تحفظات ظاہر کر چکے ہیں۔ موجودہ بیان اسی جاری سفارتی اختلاف کی ایک نئی کڑی ہے۔ مستقبل کی سرگرمیوں، ممکنہ بات چیت اور متعلقہ ممالک کے سرکاری ردعمل سے ہی صورت حال میں عملی تبدیلی کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔

