تائیوان کے صدر لائی چنگ تے نے 10 اکتوبر 2026 کو قومی دن کے خطاب میں کہا ہے کہ تائیوان امن کو اہمیت دیتا ہے لیکن اپنی آزادی سے دستبردار نہیں ہوگا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر نے تائی پے میں صدارتی دفتر کے باہر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت تبادلے اور بات چیت کے لیے تیار ہے، مگر ایسے انتظام کو قبول نہیں کرے گی جس میں تائیوان کی حیثیت کسی دوسرے فریق کے تابع ہو۔ انہوں نے عوام کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق پر زور دیا۔
یہ خطاب ایسے وقت میں ہوا جب چین اور تائیوان کے درمیان سیاسی اور عسکری اختلافات برقرار ہیں۔ بیجنگ تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ تائی پے میں قائم حکومت اس دعوے کو مسترد کرتی ہے۔ روئٹرز کے مطابق چین نے تائیوان پر سفارتی اور فوجی دباؤ بڑھایا ہے اور چینی قیادت نے طاقت استعمال کرنے کے امکان کو باضابطہ طور پر کبھی خارج نہیں کیا۔ تائیوان کی حکومت اس صورتحال میں اپنی دفاعی تیاری کو ضروری قرار دیتی ہے۔
صدر لائی نے کہا کہ صرف خواہشات کی بنیاد پر امن قائم نہیں رہتا اور مؤثر دفاعی صلاحیت رکھنا اس بات سے مختلف ہے کہ کوئی فریق جنگ کی خواہش رکھتا ہو۔ انہوں نے دفاع پر زیادہ اخراجات اور اپنی افواج کی جدید کاری کے منصوبے کو ممکنہ تصادم روکنے کی کوشش بتایا۔ ان کے بقول مضبوط دفاع کا مقصد مذاکرات ترک کرنا نہیں بلکہ انہیں برابری اور وقار کی بنیاد پر ممکن بنانا ہے۔ ان بیانات کو صدر کا سیاسی مؤقف سمجھنا چاہیے، کسی نئی جنگ یا فوجی آپریشن کا اعلان نہیں۔
روئٹرز کے مطابق صدر نے امریکا اور چین کے درمیان بات چیت کے ذریعے مسابقت کو منظم کرنے اور تصادم کے خطرے کو کم کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ہند بحرالکاہل کی جمہوری قوتوں سے علاقائی امن اور موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کے لیے تعاون کی اپیل بھی کی۔ چین کے تائیوان امور دفتر سے خطاب پر ردعمل مانگا گیا لیکن خبر کی اشاعت تک فوری جواب نہیں آیا تھا۔
تائیوان میں 10 اکتوبر کا قومی دن 1911 کی اس تحریک کی یاد میں منایا جاتا ہے جس نے چین میں آخری شاہی خاندان کے خاتمے اور جمہوریہ چین کے قیام کی راہ ہموار کی۔ موجودہ حکومت تائیوان میں 1949 کے بعد سے قائم ہے۔ قومی دن کا خطاب بنیادی طور پر سیاسی سمت، سلامتی اور علاقائی تعلقات کے بارے میں صدر کی ترجیحات بیان کرتا ہے۔ عملی پیش رفت کا انحصار بعد کی دفاعی پالیسیوں، مکالمے اور علاقائی سرگرمیوں پر ہوگا۔

