کییف: یوکرین کے متعدد علاقوں پر روس کے تازہ فضائی حملوں میں کم از کم تین افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شہری ہلاکتیں زاپوریژیا، ایوانو فرانکیفسک اور کییف کے علاقوں میں رپورٹ ہوئیں۔ یہ تازہ واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب ملک میں توانائی کے مراکز اور نقل و حمل کے نظام پر حملوں کے خدشات میں اضافہ ہورہا ہے اور موسم سرما سے پہلے شہری سہولتوں کا تحفظ حکام کے لیے اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین روز کے دوران مختلف حملوں میں مجموعی طور پر پچاس سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مشرقی یوکرین میں بسوں کے قریب ایک بڑے حملے میں تیس افراد کے مارے جانے اور پریلوکی میں میزائل حملے سے بائیس افراد، جن میں پانچ بچے بھی شامل تھے، کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔ ان واقعات کا ذکر الگ دنوں کی کارروائیوں کے پس منظر کے طور پر ہے، نہ کہ تازہ تین ہلاکتوں کے مجموعے میں دوبارہ شمار کرنے کے لیے۔ جنگی حالات میں الگ مقامات سے آنے والی اطلاعات کی آزادانہ تصدیق اور اعداد کی تازہ کاری جاری رہ سکتی ہے۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روسی حملوں کی شدت اور ان کے شہری زندگی پر اثرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے نیٹو ممالک سے فضائی دفاع کے جدید نظام، خصوصاً بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے کی صلاحیت اور متعلقہ سازوسامان میں مزید مدد طلب کی ہے۔ بجلی کے نظام کو نقصان پہنچنے کی صورت میں رہائشی علاقوں، طبی خدمات اور کاروباری سرگرمیوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ کییف کی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں کے لیے ہنگامی امدادی مراکز کی تیاری بھی شروع کی ہے۔
دوسری جانب یوکرینی ڈرون حملوں سے روسی بنیادی ڈھانچے، بشمول ایک تیل صاف کرنے کی تنصیب اور ڈیٹا سینٹر، کے متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بعض تفصیلات متعلقہ فریقوں کے دعووں پر مبنی ہیں اور انہیں آزادانہ طور پر مکمل طور پر تصدیق شدہ نتائج سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ روسی حکام نے بڑی تعداد میں یوکرینی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے؛ ان دعووں کو بھی اسی احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
تازہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان لڑائی صرف اگلے محاذوں تک محدود نہیں رہی بلکہ شہری آبادیاں، آمد و رفت کے راستے اور بجلی کی فراہمی بھی تنازعے سے متاثر ہورہے ہیں۔ اس خبر میں ہلاکتوں کے اعداد اور فریقین کے بیانات متعلقہ رپورٹس سے منسوب ہیں، جبکہ جنگ کے جاری ہونے کے باعث صورت حال بدل سکتی ہے۔
